ہوں اسیر دام الفت کس ستم ایجاد کا
ہے دگرگوں حال میری خاطرِ ناشاد کا
میں شہیدِ ناز ہوں جس بائی بے داد کا
کھینچنا نقشا مِری تُربت پر اس جلاد کا
کھینچنا چاہیں اگر تصویر میری یار کی
رنگ مانی کا اڑے، ٹوٹے قلم بہزاد کا
ایک بت سے دل لگا کر قیدئ الفت بنا
ورنہ عالم میری آزادی میں تھا شمشاد کا
جب کوئی غنچہ کھلا مرجھا کے آخر گر گیا
دیکھتے ہو رنگ اس باغِ خزاں آباد کا
توڑ کر جام و سبو ہو بیٹھے قیس اب قبلہ رو
مدتوں سے قصد دل تھا میں خدا کی یاد کا
قیس آروی
ضمیرالحق
No comments:
Post a Comment