مجھے نہ مانگتی تو بولتی؛ خُدا دو مجھے
بچا لیا ہے گُنہ سے تمہیں دُعا دو مجھے
مجھے کسی سے محبت نہیں تمہارے سوا
تمہیں کسی سے محبت ہے تو بُھلا دو مجھے
یہ لوگ دیکھ رہے ہیں مِری چمک میں تمہیں
کہیں اکیلے جلانا، ابھی بُجھا دو مجھے
مجھے نہ مانگتی تو بولتی؛ خُدا دو مجھے
بچا لیا ہے گُنہ سے تمہیں دُعا دو مجھے
مجھے کسی سے محبت نہیں تمہارے سوا
تمہیں کسی سے محبت ہے تو بُھلا دو مجھے
یہ لوگ دیکھ رہے ہیں مِری چمک میں تمہیں
کہیں اکیلے جلانا، ابھی بُجھا دو مجھے
حجم دشمن نے گھٹانے نہ دیا مارتے وقت
ورنہ لے اڑتی ہمیں اس سے ہوا مارتے وقت
آگہی موت سے بھی اگلا کوئی درجہ ہے
دشمنوں نے مجھے بیدار کیا مارتے وقت
صور پھونکا تو فرشتے نے فرشتے سے کہا
نطشے کیا سوچ رہا ہو گا خدا مارتے وقت؟
جہاں فرشتوں کو حیران دیکھا جاتا ہے
وہاں سے آگے بھی ایمان دیکھا جاتا ہے
زیادہ تر اسے گھُورے بغیر ملتے ہیں
کہیں کہیں کوئی حیوان دیکھا جاتا ہے
میں ایک ایسے بھی کافر کو جانتا ہوں یہاں
کہ جس میں اچھا مسلمان دیکھا جاتا ہے
دنیا کو شاندار کا مطلب نہیں پتا
مطلب ہمارے یار کا مطلب نہیں پتا
میں نے کہا تلاش کروں گا کہاں تمہیں
اس نے کہا؛ قطار کا مطلب نہیں پتا؟
وہ وقت پر ملے نہ ملے فائدے میں ہوں
وہ یوں کہ انتظار کا مطلب نہیں پتا
ابھی تو زندہ ہیں کہتے ہو یارا کیا ہو گا
ہمارے بعد نہ جانے تمہارا کیا ہو گا
ہمارا خود پہ گزارا نہیں ہے مدت سے
ہمارے ساتھ،، کسی کا گزارا کیا ہو گا
نکالو آنکھ سے سُرمہ نمک بھرو اس میں
موازنہ کرو اشکوں سے، کھارا کیا ہو گا
آدمی آدمی کے بس کا نہیں
اور یہ قصہ سو برس کا نہیں
صرف تصویر کھینچ سکتا ہے
دکھ تِرے کیمرے کے بس کا نہیں
جب یہ آتی ہے تو نہیں جاتی
آگہی ہے حضور چسکا نہیں
جس طرح سے جس جگہ پر جس بھی ڈھب روشن کرو
میں تو بس یہ چاہتا ہوں مجھ سے سب روشن کرو
دوسروں کے طنز پر خاموش ہو جاتا ہوں میں
تم جلاؤ گے تو جل اٹھوں گا جب روشن کرو
خود پہ مرنے والوں کی تعداد تو دیکھو ذرا
میں نہیں مر سکتا مجھ کو بے سبب روشن کرو
آ تو جائیں تمہاری آنکھوں میں
نظر آئیں گے ساری آنکھوں میں
جیسے تونسہ بیراج سے نکلیں
ڈوب جائیں تمہاری آنکھوں میں
صرف اک تم ہو، وہ بھی اپنے لیے
اور کیا ہے ہماری آنکھوں میں
بھائی کمال کر دیا دیوار کھینچ کر
پہلے یہ کام ہوتا تھا تلوار کھینچ کر
اتنا جھکا دیا ہے تِرے ہجر نے مجھے
بچہ بھی سر سے لے گیا دستار کھینچ کر
کردار بھی دکھاتا اگر شکل کی طرح
دے مارتے زمیں پہ مجھے یار کھینچ کر
کس کو روشن بنا رہے ہو تم
اتنا جو بجھتے جا رہے ہو تم
گاؤں کی جھاڑیاں بتا رہی ہیں
شہر میں گُل کھلا رہے ہو تم
ایک تو ہم اداس ہیں، اس پر
شاعروں کو بلا رہے ہو تم
مسافر کو سفر کا مسئلہ ہے
اگر تو ہے، مگر کا مسئلہ ہے
صحافی کو تِرے کچے مکاں سے
ہے لینا کیا؟ خبر کا مسئلہ ہے
میں صاحب مارنے آیا ہوں تم کو
یہ میرے اپنے سر کا مسئلہ ہے