Showing posts with label مژدم خان. Show all posts
Showing posts with label مژدم خان. Show all posts

Tuesday, 4 April 2023

مجھے نہ مانگتی تو بولتی خدا دو مجھے

 مجھے نہ مانگتی تو بولتی؛ خُدا دو مجھے

بچا لیا ہے گُنہ سے تمہیں دُعا دو مجھے

مجھے کسی سے محبت نہیں تمہارے سوا

تمہیں کسی سے محبت ہے تو بُھلا دو مجھے

یہ لوگ دیکھ رہے ہیں مِری چمک میں تمہیں

کہیں اکیلے جلانا، ابھی بُجھا دو مجھے

Sunday, 4 July 2021

حجم دشمن نے گھٹانے نہ دیا مارتے وقت

 حجم دشمن نے گھٹانے نہ دیا مارتے وقت

ورنہ لے اڑتی ہمیں اس سے ہوا مارتے وقت

آگہی موت سے بھی اگلا کوئی درجہ ہے

دشمنوں نے مجھے بیدار کیا مارتے وقت

صور پھونکا تو فرشتے نے فرشتے سے کہا

نطشے کیا سوچ رہا ہو گا خدا مارتے وقت؟

Tuesday, 4 May 2021

جہاں فرشتوں کو حیران دیکھا جاتا ہے

 جہاں فرشتوں کو حیران دیکھا جاتا ہے

وہاں سے آگے بھی ایمان دیکھا جاتا ہے

زیادہ تر اسے گھُورے بغیر ملتے ہیں

کہیں کہیں کوئی حیوان دیکھا جاتا ہے

میں ایک ایسے بھی کافر کو جانتا ہوں یہاں

کہ جس میں اچھا مسلمان دیکھا جاتا ہے

Monday, 15 March 2021

دنیا کو شاندار کا مطلب نہیں پتا

 دنیا کو شاندار کا مطلب نہیں پتا

مطلب ہمارے یار کا مطلب نہیں پتا

میں نے کہا تلاش کروں گا کہاں تمہیں

اس نے کہا؛ قطار کا مطلب نہیں پتا؟

وہ وقت پر ملے نہ ملے فائدے میں ہوں

وہ یوں کہ انتظار کا مطلب نہیں پتا

Saturday, 13 March 2021

ابھی تو زندہ ہیں کہتے ہو یارا کیا ہو گا

 ابھی تو زندہ ہیں کہتے ہو یارا کیا ہو گا

ہمارے بعد نہ جانے تمہارا کیا ہو گا

ہمارا خود پہ گزارا نہیں ہے مدت سے

ہمارے ساتھ،، کسی کا گزارا کیا ہو گا

نکالو آنکھ سے سُرمہ نمک بھرو اس میں 

موازنہ کرو اشکوں سے، کھارا کیا ہو گا

Wednesday, 10 March 2021

آدمی آدمی کے بس کا نہیں

 آدمی آدمی کے بس کا نہیں

اور یہ قصہ سو برس کا نہیں

صرف تصویر کھینچ سکتا ہے

دکھ تِرے کیمرے کے بس کا نہیں

جب یہ آتی ہے تو نہیں جاتی

آگہی ہے حضور چسکا نہیں

Tuesday, 9 March 2021

جس طرح سے جس جگہ پر جس بھی ڈھب روشن کرو

 جس طرح سے جس جگہ پر جس بھی ڈھب روشن کرو

میں تو بس یہ چاہتا ہوں مجھ سے سب روشن کرو

دوسروں کے طنز پر خاموش ہو جاتا ہوں میں

تم جلاؤ گے تو جل اٹھوں گا جب روشن کرو

خود پہ مرنے والوں کی تعداد تو دیکھو ذرا

میں نہیں مر سکتا مجھ کو بے سبب روشن کرو

Monday, 8 March 2021

آ تو جائیں تمہاری آنکھوں میں

 آ تو جائیں تمہاری آنکھوں میں

نظر آئیں گے ساری آنکھوں میں

جیسے تونسہ بیراج سے نکلیں

ڈوب جائیں تمہاری آنکھوں میں

صرف اک تم ہو، وہ بھی اپنے لیے

اور کیا ہے ہماری آنکھوں میں

Sunday, 7 March 2021

بھائی کمال کر دیا دیوار کھینچ کر

 بھائی کمال کر دیا دیوار کھینچ کر 

پہلے یہ کام ہوتا تھا تلوار کھینچ کر

اتنا جھکا دیا  ہے تِرے ہجر نے مجھے

بچہ بھی سر سے لے گیا دستار کھینچ کر 

کردار بھی دکھاتا اگر شکل کی طرح

دے مارتے زمیں پہ مجھے یار کھینچ کر

کس کو روشن بنا رہے ہو تم

 کس کو روشن بنا رہے ہو تم

اتنا جو بجھتے جا رہے ہو تم

گاؤں کی جھاڑیاں بتا رہی ہیں

شہر میں گُل کھلا رہے ہو تم

ایک تو ہم اداس ہیں، اس پر

شاعروں کو بلا رہے ہو تم

Saturday, 6 March 2021

مسافر کو سفر کا مسئلہ ہے

 مسافر کو سفر کا مسئلہ ہے

اگر تو ہے، مگر کا مسئلہ ہے

صحافی کو تِرے کچے مکاں سے

ہے لینا کیا؟ خبر کا مسئلہ ہے

میں صاحب مارنے آیا ہوں تم کو

یہ میرے اپنے سر کا مسئلہ ہے