Tuesday, 9 March 2021

جس طرح سے جس جگہ پر جس بھی ڈھب روشن کرو

 جس طرح سے جس جگہ پر جس بھی ڈھب روشن کرو

میں تو بس یہ چاہتا ہوں مجھ سے سب روشن کرو

دوسروں کے طنز پر خاموش ہو جاتا ہوں میں

تم جلاؤ گے تو جل اٹھوں گا جب روشن کرو

خود پہ مرنے والوں کی تعداد تو دیکھو ذرا

میں نہیں مر سکتا مجھ کو بے سبب روشن کرو

میرے جلنے میں مِرا بھی ہاتھ ہونا چاہیے

ویسے بھی مصروف ہو تم، جانے کب روشن کرو

میں اگر دیکھوں گا تو سب دیکھنے لگ جائیں گے

جب کوئی میری طرف دیکھے تو تب روشن کرو

لوگ مرکز چھوڑ کر آتے ہیں باہر کی طرف

اپنے دل کی روشنی کے ساتھ لب روشن کرو

فیض سے بڑھ کر نہیں ہوتا کسی کو دیکھنا

خود نظر آؤ نہ آؤ لیکن اب روشن کرو

روشنی آنکھوں میں چبھتی ہے زیادہ دیر تک

میں بھی چبھنا چاہتا ہوں، ایک شب روشن کرو


مژدم خان

No comments:

Post a Comment