میرے رازداں میری بات سُن
یہ جو چار سُو ہیں اُداسیاں
یہ جو تِیرگی کا حِصار ہے
دلِ منتظر کی شکستگی
یہ جو خواہشوں کا غُبار ہے
میرے چارہ گر، میرے بے خبر
میرے رازداں میری بات سُن
یہ جو چار سُو ہیں اُداسیاں
یہ جو تِیرگی کا حِصار ہے
دلِ منتظر کی شکستگی
یہ جو خواہشوں کا غُبار ہے
میرے چارہ گر، میرے بے خبر
کبھی گیسوؤں پہ غزل لکھی، کبھی چشمِ مے کو سجا دیا
میری پہ تُو ناز کر،۔ تجھے شہریار بنا دیا
تھا گلی میں بیٹھا سِسک رہا، غمِ یک نفس سے تڑپ رہا
میں نے دُکھ کے بال سنوار کے، اُسے اپنے گھر کا پتہ دیا
سرِ شام ایسی ہوا چلی،۔ کہ چراغِ آرزو بُجھ گئے
فقط اک شرارۂ دل بچا، اُسے میں نے خود ہی بُجھا دیا
سردیوں کے موسم میں
جب تُو یاد آتی ہے
سُرمئ اندھیرے میں
آنکھ بھیگ جاتی ہے
نوچ نوچ لیتے ہیں
خار و خس محبت کے
صرف ہجر رہتا ہے
پیش و پس محبت کے
رُوح تک چلے آئے
حاشیے محبت کے
دُور ہوتے جاتے ہیں
زاویے محبت کے
شام بھی ادھوری ہے
رات بھی ادھوری ہے
ذیشان نشتر
آخری بار جب ملے تھے ہم
میں نے اس کو بتا دیا نشتر
عمر بھی کی جُدائیوں کے عِوض
چند لمحوں کا وصل کیا معنی
شوخ خوابوں کے بیج بونے پر
تلخ یادوں کی فصل کیا معنی
فقیر ہوں، سو حویلی سے ہٹ کے بیٹھا ہوں
میں اپنے حلقۂ جاں میں سمٹ کے بیٹھا ہوں
وہ جل پری کبھی آئی تو کُھل کے برسوں گا
میں ابرِ عشق ہوں، گرچہ کہ چھٹ کے بیٹھا ہوں
کسی نے خواب، کسی نے نگاہ مانگی ہے
سو اپنے چاہنے والوں میں بٹ کے بیٹھا ہوں