Showing posts with label ذیشان نشتر. Show all posts
Showing posts with label ذیشان نشتر. Show all posts

Sunday, 31 March 2024

میرے رازداں میری بات سن

میرے رازداں میری بات سُن

یہ جو چار سُو ہیں اُداسیاں

یہ جو تِیرگی کا حِصار ہے

دلِ منتظر کی شکستگی

یہ جو خواہشوں کا غُبار ہے

میرے چارہ گر، میرے بے خبر

Wednesday, 22 November 2023

کبھی گیسوؤں پہ غزل لکھی کبھی چشم مے کو سجا دیا

 کبھی گیسوؤں پہ غزل لکھی، کبھی چشمِ مے کو سجا دیا

میری پہ تُو ناز کر،۔ تجھے شہریار بنا دیا

تھا گلی میں بیٹھا سِسک رہا، غمِ یک نفس سے تڑپ رہا

میں نے دُکھ کے بال سنوار کے، اُسے اپنے گھر کا پتہ دیا

سرِ شام ایسی ہوا چلی،۔ کہ چراغِ آرزو بُجھ گئے

فقط اک شرارۂ دل بچا، اُسے میں نے خود ہی بُجھا دیا

Monday, 20 November 2023

سردیوں کے موسم تو بہت ضروری ہے

 سردیوں کے موسم میں

جب تُو یاد آتی ہے

سُرمئ اندھیرے میں

آنکھ بھیگ جاتی ہے

نوچ نوچ لیتے ہیں

خار و خس محبت کے

صرف ہجر رہتا ہے

پیش و پس محبت کے

رُوح تک چلے آئے

حاشیے محبت کے

دُور ہوتے جاتے ہیں

زاویے محبت کے

شام بھی ادھوری ہے

رات بھی ادھوری ہے



ذیشان نشتر

Saturday, 18 November 2023

آخری بار جب ملے تھے ہم

 آخری بار جب ملے تھے ہم

میں نے اس کو بتا دیا نشتر

عمر بھی کی جُدائیوں کے عِوض

چند لمحوں کا وصل کیا معنی

شوخ خوابوں کے بیج بونے پر

تلخ یادوں کی فصل کیا معنی

Tuesday, 3 August 2021

فقیر ہوں سو حویلی سے ہٹ کے بیٹھا ہوں

 فقیر ہوں، سو حویلی سے ہٹ کے بیٹھا ہوں

میں اپنے حلقۂ جاں میں سمٹ کے بیٹھا ہوں

وہ جل پری کبھی آئی تو کُھل کے برسوں گا

میں ابرِ عشق ہوں، گرچہ کہ چھٹ کے بیٹھا ہوں

کسی نے خواب، کسی نے نگاہ مانگی ہے

سو اپنے چاہنے والوں میں بٹ کے بیٹھا ہوں