Tuesday, 15 September 2026

دل کہیں مبتلا نہ ہو جائے

 دل کہیں مُبتلا نہ ہو جائے

بے خطا ہی سزا نہ ہو جائے

عرضِ مطلب بھی کہہ نہیں سکتا

بات اپنی خطا نہ ہو جائے

درد کو بھی چُھپا کے رکھتا ہوں

خوف یہ ہے شفا نہ ہو جائے

مہربانی بھی جُرم ہے میرا

آشنائے وفا نہ ہو جائے

رازِ اُلفت بھی کیا کہوں اس سے

کہیں پر پر خفا نہ ہو جائے

فکر رہتی ہے یوں مجھے ہر دم

درد بڑھ کر دوا نہ ہو جائے

اس کو لاؤ نہ تم خُدا کے لیے

رُوحِ دُشمن فنا نہ ہو جائے

بزمِ یاراں میں آ گیا نیرنگ

کوئی طُوفاں بپا نہ ہو جائے


نند لال نیرنگ سرحدی

مندھرا، ڈیرہ اسماعیل خان، ریواڑی گوڑگاؤں

کریڈٹ یوٹیوب وڈیو

https://www.youtube.com/watch?v=jsxvP1n0j5o&list=RDjsxvP1n0j5o&start_radio=1

No comments:

Post a Comment