اب کسی پار اُتر جانے کو جی چاہتا ہے
زندگی یوں ہے کہ مر جانے کو جی چاہتا ہے
شوق کے ساتھ ہوا کھانے میں اک عُمر کٹی
اب جو سچ پوچھو تو گھر جانے کو جی چاہتا ہے
کشتئ جاں سے اُترنا ہی پڑے گا اک دن
بس اسی خوف سے ڈر جانے کو جی چاہتا ہے
حالِ دل کہتا پھروں شہر میں اوروں سے مگر
جب وہ پوچھے تو مُکر جانے کو جی چاہتا ہے
گُم ہے اس پار کہیں قوّتِ اظہار مِری
اس لیے حد سے گُزر جانے کو جی چاہتا ہے
جلوۂ آبِ رواں دیکھنے کی خواہش میں
موج در موج بکھر جانے کو جی چاہتا ہے
ندیم احمد
No comments:
Post a Comment