سب نے مجھ سے کیا ہے کنارا
صرف تیرا ہے یا رب سہارا
اشک غم یوں ہی بہتے رہیں گے
یا رکے گا کبھی غم کا دھارا
میری کشتی ہے طوفاں کی زد میں
مل گیا بحر غم کا کنارا
سب نے مجھ سے کیا ہے کنارا
صرف تیرا ہے یا رب سہارا
اشک غم یوں ہی بہتے رہیں گے
یا رکے گا کبھی غم کا دھارا
میری کشتی ہے طوفاں کی زد میں
مل گیا بحر غم کا کنارا
سوزشِ غم کا بیاں لب پہ نہ لاؤں کیونکر
درد ہے حد سے سوا دل میں چُھپاؤں کیونکر
تُو یہیں دوست مِرے غم کا مداوا کر دے
چوٹ جو دل پہ لگی ہے وہ دِکھاؤں کیونکر
کیسے دُہراؤں غمِ زیست کے افسانے کو
سُننے والا نہ کوئی ہو تو سُناؤں کیونکر
تری دنیا میں رہ کر کیا کریں گے
خُدایا! عمر بھر رویا کریں گے
محبت کا گِلہ، اُلفت کا شکوہ
پتہ کیا تھا کہیں ایسا کریں گے
رہی جب نہ خُوشی کی زندگی گر
پھر ایسی زندگی کو کیا کریں گے
میں تلاش کر رہی تھی غم دل کا کچھ بہانہ
مِری راہ میں یہ ناحق کہاں آ گیا زمانہ
مِرے حال پر کرم کر کبھی دوست غائبانہ
وہ سکون بخش دل کو کہ تڑپ اٹھے زمانہ
ہے طواف اب بھی جاری تِرے آستاں کا لیکن
نہیں مِل سکا جبیں کو تِرا سنگِ آستانہ
کیوں ٹِیس سی دل میں اٹھتی ہے کیوں درد سے جی گھبراتا ہے
پہلے تو نہ تھا ایسا عالم، اب دل کیوں ڈُوبا جاتا ہے
چاہت سے کسی کی سِیکھا تھا غم سہنا اور آنسو پِینا
لیکن اب تو ہر اشکِ الم آنکھوں سے ٹپک ہی جاتا ہے
آدابِ محبت کی خاطر راحتِ غم کو سمجھے ہیں تو پھر
کیوں دل سے آہ نکلتی ہے، کیوں چکر سا آ جاتا ہے