Showing posts with label رابعہ ناشاد. Show all posts
Showing posts with label رابعہ ناشاد. Show all posts

Wednesday, 13 March 2024

سب نے مجھ سے کیا ہے کنارا

 سب نے مجھ سے کیا ہے کنارا

صرف تیرا ہے یا رب سہارا

اشک غم یوں ہی بہتے رہیں گے

یا رکے گا کبھی غم کا دھارا

میری کشتی ہے طوفاں کی زد میں

مل گیا بحر غم کا کنارا

Friday, 16 February 2024

سوزش غم کا بیاں لب پہ نہ لاؤں کیونکر

 سوزشِ غم کا بیاں لب پہ نہ لاؤں کیونکر

درد ہے حد سے سوا دل میں چُھپاؤں کیونکر

تُو یہیں دوست مِرے غم کا مداوا کر دے

چوٹ جو دل پہ لگی ہے وہ دِکھاؤں کیونکر

کیسے دُہراؤں غمِ زیست کے افسانے کو

سُننے والا نہ کوئی ہو تو سُناؤں کیونکر

Thursday, 4 January 2024

تری دنیا میں رہ کر کیا کریں گے

 تری دنیا میں رہ کر کیا کریں گے

خُدایا! عمر بھر رویا کریں گے

محبت کا گِلہ، اُلفت کا شکوہ

پتہ کیا تھا کہیں ایسا کریں گے

رہی جب نہ خُوشی کی زندگی گر

پھر ایسی زندگی کو کیا کریں گے

Sunday, 3 April 2022

میں تلاش کر رہی تھی غم دل کا کچھ بہانہ

میں تلاش کر رہی تھی غم دل کا کچھ بہانہ

مِری راہ میں یہ ناحق کہاں آ گیا زمانہ

مِرے حال پر کرم کر کبھی دوست غائبانہ

وہ سکون بخش دل کو کہ تڑپ اٹھے زمانہ

ہے طواف اب بھی جاری تِرے آستاں کا لیکن

نہیں مِل سکا جبیں کو تِرا سنگِ آستانہ

Sunday, 25 July 2021

کیوں ٹیس سی دل میں اٹھتی ہے کیوں درد سے جی گھبراتا ہے

کیوں ٹِیس سی دل میں اٹھتی ہے کیوں درد سے جی گھبراتا ہے

پہلے تو نہ تھا ایسا عالم، اب دل کیوں ڈُوبا جاتا ہے

چاہت سے کسی کی سِیکھا تھا غم سہنا اور آنسو پِینا

لیکن اب تو ہر اشکِ الم آنکھوں سے ٹپک ہی جاتا ہے

آدابِ محبت کی خاطر راحتِ غم کو سمجھے ہیں تو پھر

کیوں دل سے آہ نکلتی ہے، کیوں چکر سا آ جاتا ہے