Showing posts with label گوہر لکھنوی. Show all posts
Showing posts with label گوہر لکھنوی. Show all posts

Monday, 7 July 2025

افسوس کا مقام ہے بنتے ہو اہل دیں

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت

حضرت عباسؑ کا رجز


افسوس کا مقام ہے بنتے ہو اہلِ دیں

احکام حق سے حیف ہے واقف ذرا نہیں

کس کے طفیل میں بنے یہ آسماں زمیں

محبوب حق نبیﷺ خدا ختمِ مرسلیں

مہماں تمہارا حیف اسی کا نواسہ ہے

مر جانے کی جگہ ہے کہ دو دن سے پیاسا ہے

Tuesday, 27 August 2024

مقصود میرا مدح شہ خوش خصال ہے

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


مقصود میرا مدحِ شہ خوش خصال ہے

ہر لمحہ صبح و شام یہی اک خیال ہے

دل مضطرب ہے شوق میں اب تو یہ حال ہے

ہر آرزوئے فکر سُخن پائمال ہے

ہوں مبتلائے کشمکش دہر کیا کروں

کس وقت میں ثنائے شہ لا فتا کروں

Saturday, 20 July 2024

ذکر سے طالوت کے الله نے واضح کیا

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


ذکر سے طالوت کے الله نے واضح کیا

بادشاہِ اہلِ دینِ حق بھی چُنتا ہے خدا

کرتا ہے اعلان جس کا اس کی جانب سے نبیؐ

حسب قرآں اور کسی کو حق اس کا نہیں


چاہتی تھی کھیلنا معصوم کے ایمان سے

پاکبازی پیاری تھی یوسفؑ کو اپنی جان سے

Sunday, 30 July 2023

تیری ہی تجلی سے ہیں روشن مہ و خورشید

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت سلام


تیری ہی تجلی سے ہیں روشن مہ و خورشید

خالق بھی تُو ہی ہے تُو ہی رب ہے تُو ہی معبود

تیرے ہی کرم سے ہیں رواں قافلے ہر سُو

رہبر نہ بنے تُو تو ہر اک راہ ہے مسدود

تُو چاہے تو ہر بحر کو پایاب بنا دے

تُو نوحؑ کا حافظ ہے، براہیمؑ کا معبود

Saturday, 29 July 2023

حسین تر پھول چن کر حق نے ایماں کی بہاروں سے

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت سلام


حسین تر پُھول چُن کر حق نے ایماں کی بہاروں سے

ملا دی شانِ بطحا جنتوں کے لالہ زاروں سے

ہے ممنونِ محمدﷺ مصطفیٰﷺ شانِ براہیمیؑ

وہ چاہیں تو شگفتہ پُھول پیدا ہوں شراروں سے

عرب کے کملی والے سے وہ دولت ہم نے پائی ہے

جو دولت مل نہیں سکتی جہاں کے تاجداروں سے

Friday, 28 July 2023

دین اسلام کا کربل میں یہ رہبر تو نہیں

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت سلام


دینِ اسلام کا کربل میں یہ رہبر تو نہیں

نازشِ دیں خدا دلبر حیدرؑ تو نہیں

احمدﷺ و حیدرؑ کرار کا دلبر تو نہیں

جو ہے سردار جناں یہ وہ گلِ تر تو نہیں

فوج باطل سے چلے آتے ہیں کچھ فوجی ادھر

دیکھئے شاہ کہیں حرؑ دلاور تو نہیں

Thursday, 27 July 2023

جب نکلا شیر خیمہ سے مشک و علم لیے

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت سلام


جب نکلا شیر خیمہ سے مشک و علم لیے

بچوں کی العطش کی صدائیں بہم لیے

جعفرؑ کا رعب شیر خداؑ کا حشم لیے

فتح و ظفر نے سر پہ جری کے قدم لیے

نظریں جمیں ترائی پہ، جس دم دلیر کی

لشکر میں غُل ہوا اب آمد ہے شیر کی

Saturday, 14 November 2020

موج میں آ گئی روانی اب

 موج میں آ گئی روانی اب

پیاس مجھ کو نہیں بجھانی اب

مجھ میں شامل ہوا نشیمن یوں

وہ ہے کردار میں کہانی اب

حافظہ کر کے میں بھی بیٹھی ہوں

سب ستم یاد ہیں زبانی اب