عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
حضرت عباسؑ کا رجز
افسوس کا مقام ہے بنتے ہو اہلِ دیں
احکام حق سے حیف ہے واقف ذرا نہیں
کس کے طفیل میں بنے یہ آسماں زمیں
محبوب حق نبیﷺ خدا ختمِ مرسلیں
مہماں تمہارا حیف اسی کا نواسہ ہے
مر جانے کی جگہ ہے کہ دو دن سے پیاسا ہے
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
حضرت عباسؑ کا رجز
افسوس کا مقام ہے بنتے ہو اہلِ دیں
احکام حق سے حیف ہے واقف ذرا نہیں
کس کے طفیل میں بنے یہ آسماں زمیں
محبوب حق نبیﷺ خدا ختمِ مرسلیں
مہماں تمہارا حیف اسی کا نواسہ ہے
مر جانے کی جگہ ہے کہ دو دن سے پیاسا ہے
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
مقصود میرا مدحِ شہ خوش خصال ہے
ہر لمحہ صبح و شام یہی اک خیال ہے
دل مضطرب ہے شوق میں اب تو یہ حال ہے
ہر آرزوئے فکر سُخن پائمال ہے
ہوں مبتلائے کشمکش دہر کیا کروں
کس وقت میں ثنائے شہ لا فتا کروں
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
ذکر سے طالوت کے الله نے واضح کیا
بادشاہِ اہلِ دینِ حق بھی چُنتا ہے خدا
کرتا ہے اعلان جس کا اس کی جانب سے نبیؐ
حسب قرآں اور کسی کو حق اس کا نہیں
چاہتی تھی کھیلنا معصوم کے ایمان سے
پاکبازی پیاری تھی یوسفؑ کو اپنی جان سے
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت سلام
تیری ہی تجلی سے ہیں روشن مہ و خورشید
خالق بھی تُو ہی ہے تُو ہی رب ہے تُو ہی معبود
تیرے ہی کرم سے ہیں رواں قافلے ہر سُو
رہبر نہ بنے تُو تو ہر اک راہ ہے مسدود
تُو چاہے تو ہر بحر کو پایاب بنا دے
تُو نوحؑ کا حافظ ہے، براہیمؑ کا معبود
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت سلام
حسین تر پُھول چُن کر حق نے ایماں کی بہاروں سے
ملا دی شانِ بطحا جنتوں کے لالہ زاروں سے
ہے ممنونِ محمدﷺ مصطفیٰﷺ شانِ براہیمیؑ
وہ چاہیں تو شگفتہ پُھول پیدا ہوں شراروں سے
عرب کے کملی والے سے وہ دولت ہم نے پائی ہے
جو دولت مل نہیں سکتی جہاں کے تاجداروں سے
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت سلام
دینِ اسلام کا کربل میں یہ رہبر تو نہیں
نازشِ دیں خدا دلبر حیدرؑ تو نہیں
احمدﷺ و حیدرؑ کرار کا دلبر تو نہیں
جو ہے سردار جناں یہ وہ گلِ تر تو نہیں
فوج باطل سے چلے آتے ہیں کچھ فوجی ادھر
دیکھئے شاہ کہیں حرؑ دلاور تو نہیں
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت سلام
جب نکلا شیر خیمہ سے مشک و علم لیے
بچوں کی العطش کی صدائیں بہم لیے
جعفرؑ کا رعب شیر خداؑ کا حشم لیے
فتح و ظفر نے سر پہ جری کے قدم لیے
نظریں جمیں ترائی پہ، جس دم دلیر کی
لشکر میں غُل ہوا اب آمد ہے شیر کی
موج میں آ گئی روانی اب
پیاس مجھ کو نہیں بجھانی اب
مجھ میں شامل ہوا نشیمن یوں
وہ ہے کردار میں کہانی اب
حافظہ کر کے میں بھی بیٹھی ہوں
سب ستم یاد ہیں زبانی اب