Saturday, 14 November 2020

موج میں آ گئی روانی اب

 موج میں آ گئی روانی اب

پیاس مجھ کو نہیں بجھانی اب

مجھ میں شامل ہوا نشیمن یوں

وہ ہے کردار میں کہانی اب

حافظہ کر کے میں بھی بیٹھی ہوں

سب ستم یاد ہیں زبانی اب

سوکھ جانے دے دل کے دریا کو

پونچھ لے آنکھ سے یہ پانی اب

وہ تو اب یاد بھی نہیں آتا

سخت مشکل ہے زندگانی اب

وقت نے سارے زخم بھر ڈالے

دے کوئی اور سی نشانی اب


گوہر لکھنوی

No comments:

Post a Comment