Saturday, 14 November 2020

ادھر جو شخص بھی آیا اسے جواب ہوا

 ادھر جو شخص بھی آیا اسے جواب ہوا

کوئی نہیں جو محبت میں کامیاب ہوا

وہ خوش نصیب ہیں جن کو خدا کی ذات ملی

ہمیں اک آدمی مشکل سے دستیاب ہوا

بالآخر آگ دھواں ہو گئی محبت کی

کسی کے ساتھ جو دیکھا تھا خواب، خواب ہوا

تمہارے سامنے کس کو مجال بولنے کی

تمہارے سامنے ہر شخص لاجواب ہوا

ہمارے سامنے بچے زباں دراز ہوئے

ہمارے سامنے ذرہ بھی آفتاب ہوا

مرے اثاثوں میں خواب اور حسرتیں نکلیں

کبیر عشق میں میرا بھی اِحتساب ہوا

کبیر ہو گئے برباد ہم کو ہونا تھا

تمہیں یہ پوچھے کوئی تم کو کیا ثواب ہوا


انعام کبیر

No comments:

Post a Comment