زمیں کے قصے زماں سے سنا دئیے جائیں
اور آسماں سے قلابے ملا دئیے جائیں
خزاں رسیدہ ہیں سب پیڑ پات گلشن میں
فقیر لوگ اسے تو دعا دئیے جائیں
اب آسماں کی طرف بڑھ رہے ہیں میرے قدم
اب آسمان سے بادل ہٹا دئیے جائیں
تقاضا ہے میاں اس شہر کی عدالت کا
کہ ہوں خطا پہ مسلسل سزا دئیے جائیں
مرے خیال میں بازاری لوگ ایسے ہیں
زرا سا کھیل کے آگے بڑھا دئیے جائیں
ہے روشنی مری آنکھوں پہ اب اذیت سی
چراغ جلنے سے پہلے بجھا دئیے جائیں
اسامہ امیر
No comments:
Post a Comment