Saturday, 14 November 2020

زمیں کے قصے زماں سے سنا دئیے جائیں

 زمیں کے قصے زماں سے سنا دئیے جائیں

اور آسماں سے قلابے ملا دئیے جائیں

خزاں رسیدہ ہیں سب پیڑ پات گلشن میں

فقیر لوگ اسے تو دعا دئیے جائیں

اب آسماں کی طرف بڑھ رہے ہیں میرے قدم

اب آسمان سے بادل ہٹا دئیے جائیں

تقاضا ہے میاں اس شہر کی عدالت کا

کہ ہوں خطا پہ مسلسل سزا دئیے جائیں

مرے خیال میں بازاری لوگ ایسے ہیں

زرا سا کھیل کے آگے بڑھا دئیے جائیں

ہے روشنی مری آنکھوں پہ اب اذیت سی

چراغ جلنے سے پہلے بجھا دئیے جائیں


اسامہ امیر

No comments:

Post a Comment