Showing posts with label اثر بہرائچی. Show all posts
Showing posts with label اثر بہرائچی. Show all posts

Friday, 6 October 2023

جن پر تری نگاہ پڑی وہ سنور گئے

 جن پر تری نگاہ پڑی وہ سنور گئے

جن سے تِری نگاہ پھری وہ بکھر گئے

اس دور پر ملال میں آئے گی کیا ہنسی

خنداں لبی کے یار زمانے گزر گئے

منزل تمام عمر نہیں مل سکی انہیں

رستے میں پا کے چھاؤں کہیں جو ٹھہر گئے

Thursday, 5 October 2023

نہ لبوں پہ آہ لاتے تو کچھ اور بات ہوتی

 نہ لبوں پہ آہ لاتے تو کچھ اور بات ہوتی

تہہِ غم بھی مسکراتے تو کچھ اور بات ہوتی

مِرے دل میں تم مکیں ہو رگِ جاں سے بھی قریں ہو

جو نظر میں بھی سماتے تو کچھ اور بات ہوتی

مِرے دل کی دھڑکنیں ہیں مرے گیت میرے نغمے

مِرے غم کو تم بھی گاتے تو کچھ اور بات ہوتی

Tuesday, 3 October 2023

رات لوگوں نے جسے دور سے دیکھا ہو گا

 رات لوگوں نے جسے دور سے دیکھا ہو گا

چاند کہتے ہیں، مگر آپ کا چہرہ ہو گا

کس کو یہ ہوش کہ انجامِ محبت سوچے

جو بھی ہو گا مِرے محبوب! وہ اچھا ہو گا

میری قسمت میں جو تھی تشنہ لبی آج بھی ہے

تیری زُلفوں کا یہ ساون کہیں برسا ہو گا

عشق ناکام تمنا جان محروم سکوں

 عشق ناکام تمنا،۔ جان محروم سکوں

تُو ہی بتلا اے محبت! اس طرح کب تک جیوں

شعلۂ شمع محبت،۔ گرمئ سوزِ دروں

پھونک دے سب خِرمنِ دل اور میں دیکھا کروں

بزمِ ہستی میں کسے ہو سر بلندی پر غرور

آسماں کو دیکھیے اس اوج پر ہے سر نِگوں

Monday, 2 October 2023

کوئی ہم نفس نہیں ہے کوئی چارہ گر نہیں ہے

 کوئی ہم نفس نہیں ہے، کوئی چارہ گر نہیں ہے

نہیں اس طرف ہے کوئی وہ نظر جدھر نہیں ہے

تِرا غم، تِری محبت، ہے جبینِ دل کا مرکز

مِرا ذوقِ سجدہ ریزی ابھی در بدر نہیں ہے

نہیں دل ہے دل وہ جس میں تِری یاد ہو نہ باقی

جو اٹھے نہ تیری جانب، وہ نظر نظر نہیں ہے