جن پر تری نگاہ پڑی وہ سنور گئے
جن سے تِری نگاہ پھری وہ بکھر گئے
اس دور پر ملال میں آئے گی کیا ہنسی
خنداں لبی کے یار زمانے گزر گئے
منزل تمام عمر نہیں مل سکی انہیں
رستے میں پا کے چھاؤں کہیں جو ٹھہر گئے
جن پر تری نگاہ پڑی وہ سنور گئے
جن سے تِری نگاہ پھری وہ بکھر گئے
اس دور پر ملال میں آئے گی کیا ہنسی
خنداں لبی کے یار زمانے گزر گئے
منزل تمام عمر نہیں مل سکی انہیں
رستے میں پا کے چھاؤں کہیں جو ٹھہر گئے
نہ لبوں پہ آہ لاتے تو کچھ اور بات ہوتی
تہہِ غم بھی مسکراتے تو کچھ اور بات ہوتی
مِرے دل میں تم مکیں ہو رگِ جاں سے بھی قریں ہو
جو نظر میں بھی سماتے تو کچھ اور بات ہوتی
مِرے دل کی دھڑکنیں ہیں مرے گیت میرے نغمے
مِرے غم کو تم بھی گاتے تو کچھ اور بات ہوتی
رات لوگوں نے جسے دور سے دیکھا ہو گا
چاند کہتے ہیں، مگر آپ کا چہرہ ہو گا
کس کو یہ ہوش کہ انجامِ محبت سوچے
جو بھی ہو گا مِرے محبوب! وہ اچھا ہو گا
میری قسمت میں جو تھی تشنہ لبی آج بھی ہے
تیری زُلفوں کا یہ ساون کہیں برسا ہو گا
عشق ناکام تمنا،۔ جان محروم سکوں
تُو ہی بتلا اے محبت! اس طرح کب تک جیوں
شعلۂ شمع محبت،۔ گرمئ سوزِ دروں
پھونک دے سب خِرمنِ دل اور میں دیکھا کروں
بزمِ ہستی میں کسے ہو سر بلندی پر غرور
آسماں کو دیکھیے اس اوج پر ہے سر نِگوں
کوئی ہم نفس نہیں ہے، کوئی چارہ گر نہیں ہے
نہیں اس طرف ہے کوئی وہ نظر جدھر نہیں ہے
تِرا غم، تِری محبت، ہے جبینِ دل کا مرکز
مِرا ذوقِ سجدہ ریزی ابھی در بدر نہیں ہے
نہیں دل ہے دل وہ جس میں تِری یاد ہو نہ باقی
جو اٹھے نہ تیری جانب، وہ نظر نظر نہیں ہے