جائیے شیخ جی جائیے
منہ ہمارا نہ کھلوائیے
تاؤ کے بدلے غم کھائیے
ڈھب شریفانہ اپنائیے
پیار جیسی کوئی شے نہیں
پیار سے سب سے پیش آئیے
چھوڑ کر آستاں آپ کا
جائیے تو کہاں جائیے
بھاشنوں سے تو جی بھر گیا
گُتھیاں بھی تو سُلجھائیے
خودکشی کر نہ لیں وہ کہیں
بے کسوں پر ترس کھائیے
گردشیں ٹکنے والی نہیں
گردشوں سے نہ گھبرائیے
غیبتیں کس لیے دوستو
من کسی کا نہ بھرمائیے
آپ اگر نامی انسان ہیں
دردِ بے گانہ اپنائیے
نامی نادری
No comments:
Post a Comment