Monday, 7 September 2026

جائیے شیخ جی جائیے

 جائیے شیخ جی جائیے

منہ ہمارا نہ کھلوائیے

تاؤ کے بدلے غم کھائیے

ڈھب شریفانہ اپنائیے

پیار جیسی کوئی شے نہیں

پیار سے سب سے پیش آئیے

چھوڑ کر آستاں آپ کا

جائیے تو کہاں جائیے

بھاشنوں سے تو جی بھر گیا

گُتھیاں بھی تو سُلجھائیے

خودکشی کر نہ لیں وہ کہیں

بے کسوں پر ترس کھائیے

گردشیں ٹکنے والی نہیں

گردشوں سے نہ گھبرائیے

غیبتیں کس لیے دوستو

من کسی کا نہ بھرمائیے

آپ اگر نامی انسان ہیں

دردِ بے گانہ اپنائیے


نامی نادری

No comments:

Post a Comment