Showing posts with label نثار آثم. Show all posts
Showing posts with label نثار آثم. Show all posts

Friday, 16 September 2022

بہت گھبرائے پھرتے ہیں بہت مرجھائے جاتے ہیں

 بہت گھبرائے پھرتے ہیں بہت مُرجھائے جاتے ہیں

مِرے رہبر کو شاید قوم کے غم کھائے جاتے ہیں

یہ میری خامشی ہے، بے مروت قوم ہوں شاید

وگرنہ کس میں جرأت ہے ستم یوں ڈھائے جاتے ہیں

کوئی تو خامشی توڑے، کوئی تو گورکن روکے

دھڑا دھڑ عشق، غیرت، صدق ہی دفنائے جاتے ہیں

Saturday, 10 September 2022

اپنے مطلب ہی تلک جب رابطے رہ جائیں گے

 اپنے مطلب ہی تلک جب رابطے رہ جائیں گے

رشتوں میں بھی دوستو! فاصلے رہ جائیں گے

اس قدر سُرعت سے گَر گِرتی رہے گی یہ وفا

پھر محبت کے فقط کچھ تذکرے رہ جائیں گے

گرچہ یہ عالم ہے فانی، ہو گا سب اک دن فنا

پھر بھی تیری یاد کے جلتے دِیے رہ جائیں گے

Tuesday, 6 September 2022

اثاثہ نکلا جہاں سے وہیں سے نکلے گا

 اثاثہ نکلا جہاں سے وہیں سے نکلے گا

یہ دل کا سرقہ کسی مہ جبیں سے نکلے گا

جو عقدہ وہم و گماں میں الجھ کے بیٹھا ہے

مجھے یقیں ہے وہ پختہ یقیں سے نکلے گا

لٹا ہے جس کا بھی ایماں خدا کی بستی میں

کسی یہ پِیر یا گدی نشیں سے نکلے گا

Saturday, 25 December 2021

مساجد بیچ ڈالیں گے یہ قرآں بیچ ڈالیں گے

مساجد بیچ ڈالیں گے، یہ قرآں بیچ ڈالیں گے

یہ دولت کے پجاری ہیں یہ ایماں بیچ ڈالیں گے

چُنے ہیں باغباں جتنے، خیانت کار ہیں سارے

شجر بھی کاٹ لیں گے، یہ گلستاں بیچ ڈالیں گے

سُنو، اے قافلے والو! کوئی منزل نہیں آگے

یہ رہزن ہیں، تمہیں بشمول ساماں بیچ ڈالیں گے

Tuesday, 5 October 2021

دل کے خوابوں میں آتی رہی رات بھر

 دل کے خوابوں میں آتی رہی رات بھر

سُونا آنگن سجاتی رہی رات بھر

خوشبو اس کی تخیل پہ چھائی رہی

یاد اس کی ستاتی رہی رات بھر

ہجر میں یاس و امید کی کشمکش

دل مِرے کو جلاتی رہی رات بھر