بہت گھبرائے پھرتے ہیں بہت مُرجھائے جاتے ہیں
مِرے رہبر کو شاید قوم کے غم کھائے جاتے ہیں
یہ میری خامشی ہے، بے مروت قوم ہوں شاید
وگرنہ کس میں جرأت ہے ستم یوں ڈھائے جاتے ہیں
کوئی تو خامشی توڑے، کوئی تو گورکن روکے
دھڑا دھڑ عشق، غیرت، صدق ہی دفنائے جاتے ہیں