بہت گھبرائے پھرتے ہیں بہت مُرجھائے جاتے ہیں
مِرے رہبر کو شاید قوم کے غم کھائے جاتے ہیں
یہ میری خامشی ہے، بے مروت قوم ہوں شاید
وگرنہ کس میں جرأت ہے ستم یوں ڈھائے جاتے ہیں
کوئی تو خامشی توڑے، کوئی تو گورکن روکے
دھڑا دھڑ عشق، غیرت، صدق ہی دفنائے جاتے ہیں
محبت کرنے والے ہر زمانے میں ہی مجرم ہیں
کہیں پتھر وہ کھاتے ہیں، کہیں چُنوائے جاتے ہیں
نہ کر کوشش ستمگر! ہم ہیں بیعت اس گھرانے کے
جہاں پر سر نہیں جُھکتے، فقط کٹوائے جاتے ہیں
محبت ہے یہاں عنقا،۔ صداقت بھی فقید آثم
کہ ہم جیسے فقیر اس دور میں لٹکائے جاتے ہیں
نثار آثم
No comments:
Post a Comment