ملو گے تم نہیں چاہا کرو گے
بتاؤ عاشقی کا کیا کرو گے
یقیں میں تم نے اپنا دل دیا تھا
وفا میں جان تم مانگا کرو گے
میں اپنی حد سے اب بیحد ہوئی ہوں
تو کیا سوچے بنا لوٹا کرو گے
ملو گے تم نہیں چاہا کرو گے
بتاؤ عاشقی کا کیا کرو گے
یقیں میں تم نے اپنا دل دیا تھا
وفا میں جان تم مانگا کرو گے
میں اپنی حد سے اب بیحد ہوئی ہوں
تو کیا سوچے بنا لوٹا کرو گے
جیون کی پھلواری رکھ
مرنے کی تیاری رکھ
آنکھوں میں ہو بس مچھلی
دل میں دنیا ساری رکھ
خوشیاں آتی جاتی ہیں
غم سے تھوڑی یاری رکھ
یہ مانا کچھ یہاں ضائع نہیں ہے
مگر وہ مسئلہ سلجھا نہیں ہے
بھلا کیسے محبت کر لیں جاناں
ہوا کیا زخم گر تازہ نہیں ہے
مِرے آنسو تمہارے دل کے بدلے
مِری جاں زندگی سودا نہیں ہے
ہمارے درمیاں جو فاصلہ ہے
محض کچھ رنگ و بو کا مسئلہ ہے
بڑی تنہائیاں ہیں ذہن میں اب
ہمارے ساتھ میں اک قافلہ ہے
میں ہر منظر میں شامل ہو رہی ہوں
مِرا خود سے نہ کوئی سلسلہ ہے
یہ کیسے غم نکھارا جا رہا ہے
فقط اب دن گزارا جا رہا ہے
بڑا ہی پیار کرتے ہیں وہ مجھ سے
بدن یہ کہہ سنوارا جا رہا ہے
ذرا سا کانپ اٹھے ٹھہرے پربت
یہ کس کو یوں پکارا جا رہا ہے