یہ مانا کچھ یہاں ضائع نہیں ہے
مگر وہ مسئلہ سلجھا نہیں ہے
بھلا کیسے محبت کر لیں جاناں
ہوا کیا زخم گر تازہ نہیں ہے
مِرے آنسو تمہارے دل کے بدلے
مِری جاں زندگی سودا نہیں ہے
بڑے چپ چاپ رہنے لگ گئے ہو
زمانے کو ابھی پرکھا نہیں ہے
کہاں سے لائے ہو یہ تشنگی تم
ہماری آنکھ میں دریا نہیں ہے
چلو اب ختم کر دیں ہم یہ رشتہ
حدوں کو توڑنا اچھا نہیں ہے
پونم سونچھاترا
No comments:
Post a Comment