Thursday, 29 January 2026

یہ مانا کچھ یہاں ضائع نہیں ہے

 یہ مانا کچھ یہاں ضائع نہیں ہے

مگر وہ مسئلہ سلجھا نہیں ہے

بھلا کیسے محبت کر لیں جاناں

ہوا کیا زخم گر تازہ نہیں ہے

مِرے آنسو تمہارے دل کے بدلے

مِری جاں زندگی سودا نہیں ہے

بڑے چپ چاپ رہنے لگ گئے ہو

زمانے کو ابھی پرکھا نہیں ہے

کہاں سے لائے ہو یہ تشنگی تم

ہماری آنکھ میں دریا نہیں ہے

چلو اب ختم کر دیں ہم یہ رشتہ

حدوں کو توڑنا اچھا نہیں ہے


پونم سونچھاترا

No comments:

Post a Comment