Friday, 16 January 2026

صحرا کو دھول دھول کو صحرا نگل گیا

 صحرا کو دھول، دھول کو صحرا نِگل گیا

اور مجھ کو دردِ یار کا سایہ نگل گیا

بیٹے کو کھا گیا ہوسِ عیش کا قرار

اور بوڑھے باپ کو یہاں بیٹا نگل گیا

کھایا غریبِ شہر نے اک لقمۂ حلال

دھنوان جبکہ ساری ہی دنیا نگل گیا

دریا کہ خشک رہ گیا تا باوجودِ ایں

سیلِ متاعِ آب کو دریا نگل گیا

تادم عُروجِ ذات میں جو کہ رہے ہیں گم

آج ان کو پستیوں کا حوالا نگل گیا

کیا سِحرِ تاب ناکئ عالم ہے دوستو

اِک اژدھے کو آج پرِندہ نگل گیا

افسانۂ حیات ہے مسحورِ کائنات

جب کہ حقیقتوں کو فسانہ نگل گیا

عفریت بدگمانئ یارانِ بدگماں

دامن میں کیا کہوں کہ یہ کیا کیا نگل گیا


دامن انصاری

No comments:

Post a Comment