اس تماشائے سرِ عام سے پہلے پہلے
اِذنِ کہرام ہوا بام سے پہلے پہلے
مقتلِ خواب سے اک خاص خبر آئی ہے
آج سو جائیں گے ہم شام سے پہلے پہلے
شکل پیاسوں کی چلو یاد کرو یاد کرو
ہاں ابھی اور اسی جام سے پہلے پہلے
جب توقف مِری تصویر بنا دیتا ہے
ان کے ہونٹوں پہ مِرے نام سے پہلے پہلے
تم بھی آئے ہو یہاں کام سے آؤ بیٹھو
ہم بھی آئے تھے یہاں کام سے پہلے پہلے
زندگی چیختی رہتی تھی کہ حاصل کیا ہے
خلوتِ موت کے انعام سے پہلے پہلے
ثاقب ہمراز
No comments:
Post a Comment