Wednesday, 21 January 2026

وعدوں سے ہمیں بہلایا گیا

 وعدوں سے ہمیں بہلایا گیا

دامن میں نہ کچھ بھی آیا گیا

مانے گا وہاں کون اپنی بات

نبیوں کو جہاں جھٹلایا گیا

بے گھر ہوئے جھنڈ پرندوں کے

جب پیڑوں کو جھلسایا گیا

جن میں تھی بصیرت فن کی بہت

دولت سے انہیں للچایا گیا

جنت سے ہمیں رُسوا کر کے

دوزخ سی زمیں پر لایا گیا

پانی کے لیے جنگ کرنی پڑی

پھر خوں میں ہمیں نہلایا گیا

جو بات کبھی نہ مانی گئی

ہر بار اسے دہرایا گیا

سونا پڑا بھوکا دہقاں کو

فاقہ سے شکم دہکایا گیا

قانون وہاں پہنچا حافظ

ملزم نہ جہاں پر پایا گیا


حافظ کرناٹکی

امجد حسین

No comments:

Post a Comment