وعدوں سے ہمیں بہلایا گیا
دامن میں نہ کچھ بھی آیا گیا
مانے گا وہاں کون اپنی بات
نبیوں کو جہاں جھٹلایا گیا
بے گھر ہوئے جھنڈ پرندوں کے
جب پیڑوں کو جھلسایا گیا
جن میں تھی بصیرت فن کی بہت
دولت سے انہیں للچایا گیا
جنت سے ہمیں رُسوا کر کے
دوزخ سی زمیں پر لایا گیا
پانی کے لیے جنگ کرنی پڑی
پھر خوں میں ہمیں نہلایا گیا
جو بات کبھی نہ مانی گئی
ہر بار اسے دہرایا گیا
سونا پڑا بھوکا دہقاں کو
فاقہ سے شکم دہکایا گیا
قانون وہاں پہنچا حافظ
ملزم نہ جہاں پر پایا گیا
حافظ کرناٹکی
امجد حسین
No comments:
Post a Comment