Saturday, 17 January 2026

لوگوں کے غم سنتے سنتے دل پتھر ہو جائے گا

 لوگوں کے غم سنتے سنتے دل پتھر ہو جائے گا

ساری دنیا گھوم چکے ہیں جانے گھر کب آئے گا

دل کی بستی ایسی اجڑی خاک اڑے ہے یادوں کی

کب برکھا کی آمد ہو گی،۔ کب آنچل لہرائے گا

بات ہی سیدھی مان لو سادھو! بے دردوں کی نگری ہے

جو بھی من کی بات سنے گا یہاں وہ غم ہی پائے گا

اپنی ساری عمر کٹی ہے حسن و عشق کی راہوں پر

ان رستوں پہ دل ہے رہبر، دل تو دھوکا کھائے گا

کان بھی اب تو ترس گئے ہیں نام پیا کا سننے کو

نین بسے ان بام و در کا کب کوئی حال سنائے گا


عامر بن علی

No comments:

Post a Comment