عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
آپؐ ہیں ختم الرسُل، سلطانِؐ بطحا دائماً
کو بکو ہے “لا نبی بعدی“ کا چرچا، دائماً
ذاتِ اقدسؐ پر ہے قرباں ہر دو عالم کا جمال
حسنِ ہستی، اُن کی ہستی کاہے صدقہ، دائماً
ہے نزولِ قُدسیاں ، شام و سحر دربار پر
عرش کا ہے روضۂ انور پہ سایہ، دائماً
درگزر، جُود و سخاوت و عطا انؐ کا طریق
بہتریں اوصاف ہیں اُولا و اعلی ، دائماً
آپﷺ کا آنا بہاروں کی نویدِ جانفزا
رونقِ بزمِ جہاں اُنؐ کا حوالہ، دائماً
آرزوئے دیدِ کوئے مصطفٰیؐ دل میں رہے
ہے تمنائے دلِ حیراں مدینہ، دائماً
آئینے پہ دل کے ہو یوں اسمِ اطہر منعکس
باطن و ظاہر نکھر جائیں سراپا، دائماً
وردِ لب ہو گا مرے گر مصطفٰیؐ صلِ علیٰ
بالیقیں طوفاں میں بھی پاؤں کنارا، دائماً
سرخ رو ایماں نہیں، عشقِ محمؐد کے بغیر
زینبِ عاصی پہ ہے یہ آشکارا، دائماً
سیدہ زینب سروری قادری
No comments:
Post a Comment