Wednesday, 14 January 2026

اک اجنبی سے پیار کیا ہائے کیا کیا

 اک اجنبی سے پیار کیا ہائے کیا کِیا

خود دل کو تار تار کیا ہائے کیا کیا

دل کو سکوتِ درد پہ مائل بھی کر لیا

آنکھوں کو آبشار کیا ہائے کیا کیا

جب دل مِرا ہر ایک تمنا سے بھر گیا

پھر تیرا انتظار کیا ہائے کیا کیا

میت پہ میری آیا ہے لے کر رقیب کو

اس وقت مجھ پہ وار کیا ہائے کیا کیا

یہ عشق ایک راز تھا دنیا کے واسطے

اور تم نے اشتہار کیا ہائے کیا کیا


آفرین فہیم آفی

No comments:

Post a Comment