برق رفتار وہ یوں جان جہاں ملتے ہیں
ہم جہاں ہوتے ہیں وہ ہم کو وہاں ملتے ہیں
غم کے مارے تو ملا کرتے ہیں ہم کو اکثر
آج کے دور میں غمخوار کہاں ملتے ہیں
جو کہ ہوتے ہیں بہت مہر و محبت والے
ایسے احباب زمانے میں کہاں ملتے ہیں
خون دل کا جو کیا کرتے ہیں آناً فاناً
تیز نشتر بھی وہ قرب رگ جاں ملتے ہیں
قلب سے ہوتی نہیں جن کی زباں کو نسبت
ایسے جل باز بہت ہم کو یہاں ملتے ہیں
جو نہیں جانتے آئین محبت کیا ہے
عشق فرماتے ہوئے ایسے جواں ملتے ہیں
جن کو آتا ہے ہنر ہوش اڑا دینے کا
ہم کو ایسے بھی حسینان جہاں ملتے ہیں
حسن و خوبی سے جو چلتے ہیں رضائے حق پر
ہیں وہی لوگ جنہیں دونوں جہاں ملتے ہیں
اس طرح کے بھی ہمیں ملتے ہیں احباب عزیز
ہم سے کتراتے بہت ہیں وہ جہاں ملتے ہیں
عزیز مرادآبادی
No comments:
Post a Comment