Tuesday, 20 January 2026

دل کہاں ہر کسی سے ملتا ہے

 دل کہاں ہر کسی سے ملتا ہے

یہ تو بس آپ ہی سے ملتا ہے

تم نہ آئے تو ہم چلے آئے

کیا سمندر ندی سے ملتا ہے

تجربہ جو کبھی بیاں نہ ہوا

آخر زندگی سے ملتا ہے

اک پتنگے کو بھی مقامِ فنا

گرمئ عشق ہی سے ملتا ہے

تکتا رہتا ہوں دیر تک اس کو

جس کا چہرہ کسی سے ملتا ہے

لے کے جائے جہاں بھی مجبوری

کون کس سے خوشی سے ملتا ہے


رضوان اللہ

No comments:

Post a Comment