دل کہاں ہر کسی سے ملتا ہے
یہ تو بس آپ ہی سے ملتا ہے
تم نہ آئے تو ہم چلے آئے
کیا سمندر ندی سے ملتا ہے
تجربہ جو کبھی بیاں نہ ہوا
آخر زندگی سے ملتا ہے
اک پتنگے کو بھی مقامِ فنا
گرمئ عشق ہی سے ملتا ہے
تکتا رہتا ہوں دیر تک اس کو
جس کا چہرہ کسی سے ملتا ہے
لے کے جائے جہاں بھی مجبوری
کون کس سے خوشی سے ملتا ہے
رضوان اللہ
No comments:
Post a Comment