Showing posts with label عارف خواجہ. Show all posts
Showing posts with label عارف خواجہ. Show all posts

Saturday, 29 July 2023

رکوع سجدہ قیام اور تشنہ کام حسین

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت سلام


رکوع، سجدہ قیام اور تشنہ کام حسینؑ

ہُوا، نہ ہو گا کسی سے یہ اہتمام حسینؑ

ملے ہیں خاک میں جو ظُلم کی علامت تھے

ہے زندہ آج بھی مظلومیت کا نام حسینؑ

لگا کے سینے سے حُر کو جو تُو نے بخشا تھا

عطا ہو ہم کو بھی ایسا ہی ایک جام حسینؑ

آغوش محمد میں پلے زہرا کے دلبند

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت سلام


آغوشِ محمدؐ میں پلے زہراؑ کے دلبند

شبیرؑ ہیں شبّرؑ ہیں یہ حیدرؑ کے ہیں فرزند

کیا شانِ یصلّون ہے، کیسا ہے گھرانہ

مصروفِ سلامی ہوا از خود خداوند

دی جن کی عطاؤں نے غلاموں کو نیابت

دیکھے سرِ بازار وہ زنجیروں میں پابند

Friday, 28 July 2023

جتنا حسین تیری نہیں پر لکھا گیا

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت سلام


جتنا حُسینؑ تیری ’نہیں‘ پر لکھا گیا

لکھنا جہاں تھا گویا وہیں پر لکھا گیا

نصرت کا باب تیری جبیں پر لکھا گیا

لوح و قلم پہ عرشِ بریں پر لکھا گیا

وہ فیصلہ جو پیاسی زمیں پر لکھا گیا

مشک و عَلَم پہ گھوڑے کی زیں پر لکھا گیا

Thursday, 27 July 2023

ہے شہادت کہ ہلاکت کہ اجل بولتی ہے

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت سلام


ہے شہادت کہ ہلاکت کہ اجل بولتی ہے

مرضئ رب سرِ میدانِ جدل بولتی ہے

یہ زباں حق کی زباں ہے دم گفتار تو ہو

پھر ہو دربار، کہ مقتل، کہ محل بولتی ہے

ایک وعدہ ہے فقط وعدۂ طفلیِ حسینؑ

جس کو قاموسِ تغیّر بھی اٹل بولتی ہے

Friday, 6 January 2017

اپنی شاموں سے عطا کر دو بس اک شام مجھے

اپنی شاموں سے عطا کر دو بس اک شام مجھے
کچھ نہیں اس سے سوا دنیا میں اب کام مجھے
دن گمانوں کی عملداری میں کٹ جاتا ہے
رات بھر سونے نہیں دیتے ہیں اوہام مجھے
عشق کے گرد ہمہ دم ہوں مطوف اب میں
کس قدر سہل ہوئی گردشِ ایام مجھے

اپنے گذشتگان کی اجداد کی کشش

اپنے گزشتگان کی، اجداد کی کشش
بڑھنے لگی ہے جنتِ آباد کی کشش
ورنہ تو وقت کھا گیا جسموں کا ماس تک
تھامے ہوۓ ہے ہم کو بس اولاد کی کشش
اک سانحہ جڑا ہے نئے سانحے سے یوں
کھینچے ہےاپنی سمت اب افتاد کی کشش

Thursday, 5 January 2017

جب شورِ سگاں دہر میں قامت کی سند ہو

جب شورِ سگاں دہر میں قامت کی سند ہو
پھر کس کا بھلا شہر میں اندازۂ قد ہو
ہوتی ہے عیاں چہرے سے آنکھوں سے زباں سے
سینے میں اگر بھڑکی ہوئی نارِ حسد ہو
جب طے تھی ملاقات، یہ ممکن ہے اسی دن
ملنے کی گھڑی نحس ہو وہ ساعتِ بد ہو

کنار آبجو پیاسا نہیں ہے

کنارِ آب جُو پیاسا نہیں ہے
کوئی خیمہ کوئی پہرہ نہیں ہے
ابھی مشکل میں ہوں اے زندگانی
تِرے بارے ابھی سوچا نہیں ہے
نتیجہ جانتا ہوں میں، سو میں نے
کسی بھی شخص کو پرکھا نہیں ہے

پرانی راہ سے ہٹ کر نیا رستہ بنانا ہے

پرانی راہ سے ہٹ کر نیا رستہ بنانا ہے
ہمیں خود کو ہر اک پہلو سے یارو آزمانا ہے
کچھ ایسے محو ہونا ہے بالآخر اپنی ہستی میں
کسی کو یاد رکھنا ہے، کسی کو بھول جانا ہے
بہت مصروف گزرے گا یہ لگتا ہے نیا دن بھی
اسے بھی یاد کرنا ہے ہمیں دفتر بھی جانا ہے

Thursday, 15 December 2016

مائل عشق ہوئے عشق سے بیزار ہوئے

مائلِ عشق ہوئے، عشق سے بیزار ہوئے
ایک دو بار نہیں، ہم تو کئی بار ہوئے
چاکدامانی کی بس دیر تھی اے اہلِ جنوں
قصے آلام کے پھر زینتِ اخبار ہوئے
کونپلیں پھوٹی وہیں سے جہاں ٹپکا تھا لہو
معجزے یہ بھی تہہِ تیغِ ستم گار ہوئے

کرے ہے ایسا تکلم جہان کم نظراں

کرے ہے ایسا تکلم جہانِ کم نظراں
شگافتہ کرے سینہ، زبانِ کم نظراں
وہ منتظر ہے فقط آنکھ کے اشارے کی
مِرے عقب میں کھنچی ہے کمانِ کم نظراں
جنابِ عشق نے لکھا ہے فیصلے میں فراق
کہ میرے حق میں نہیں تھا بیانِ کم نظراں

سراپا یوں ہوا پوشاک تنگ سے ظاہر

سراپا یوں ہوا پوشاکِ تنگ سے ظاہر
نِہفتہ راز ہوا انگ انگ سے ظاہر
سخی عیاں ہیں کشادہ جبین و دل سے سبھی
بخیل سارے ہیں سینۂ تنگ سے ظاہر
کھُلا ہے ضعف مرا بالوں کی سفیدی سے
ہوئے ہیں دوست مگر دل کے زنگ سے ظاہر

تھا گراں پہلے جو مجھ پر اس پہ گزرا شاق اب

تھا گِراں پہلے جو مجھ پر اس پہ گزرا شاق اب
سب حسابِ زندگانی کر دیئے بے باق اب
خوش گمانی میں رکھا اک عمر تک تُو نے ہمیں
کھو چکی اے زندگی تُو اپنا استحقاق اب
جو کبھی شعلہ فشاں تھا اب اسی کے جسم سے
ایک چنگاری نہ پھوٹی برف ہے چقماق اب

مرے احباب کہتے ہیں

مِرے احباب کہتے ہیں 
غزل اور نظم میں عشق و محبت کے فسانے کیوں نہیں لکھتے؟
بہاریں اور بہاروں میں کِھلے گلرنگ پھولوں کی 
قطاریں دل کی مستی کا سبب کیونکر نہیں بنتیں؟
تِری نظمیں 
دھنک رنگوں کے جھولے سے پھسلتی تھیں

ریتی پہ نبی پاک کی تحریر کا غم ہے

عارفانہ کلام حمد نعت منقبت سلام

ریتی پہ نبی پاکﷺ کی تحریر کا غم ہے
اور دشت میں بکھری ہوئی تصویر کا غم ہے
چھننے کو بیاباں میں ہے پھر تیری کمائی
اے فاطمہؑ زہراؑ تِری جاگیر کا غم ہے
حُرمت کے مہینے میں روا قتل کیا ہے
بدلی گئی قرآن کی تفسیر کا غم ہے

Monday, 13 January 2014

خمیر خاک سے تھا خاک میں ملا دیا ہے

خمیر، خاک سے تھا خاک میں ملا دیا ہے
 کہ کوزہ گر نے دِگر چاک میں بٹھا دیا ہے
 غرورِ جاہ و حشم اے زمانے! کیا کم تھا
نسب کا تمغا بھی پوشاک میں لگا دیا ہے
 ہوائے نفس کے گرد و غبار نے، کتنے
 چمکتے تاروں کو افلاک میں چھپا دیا ہے

بنیاد تیرگی جو رکھے اس ضیا پہ تف

بنیادِ تیرگی جو رکھے اس ضیا پہ تُف
 بخشے نہ گر دوام تو ایسی قضا پہ تُف
 بھیجے نہ ایک لفظ میں ظالم پہ چار حرف
 اہلِ قلم کے دعویِٰ فکر و رَسا پہ تُف
 اِک عدل کی زنجیر تھی سو پاؤں آ پڑی
 منصف تِرے مزاج پہ تیری رضا پہ تُف

جو ذکرِ یار کبھی خود نوشت میں پایا

جو ذکرِ یار کبھی خود نوشت میں پایا
 دلِ حزِیں کو اسی کی گرفت میں پایا
 فراق، لمحۂ محشر میں دید کا لمحہ
 اس ایک لمحہ میں خود کو بہشت میں پایا
نزولِ شعر ہے یا جاں کنی کا عالم ہے
 بدن، اجل کے فرشتے کی شِست میں پایا

Monday, 2 December 2013

ادا کردار کس کو کون سا کرنا ہے لکھا جا چکا ہے

ادا کردار کس کو، کون سا، کرنا ہے لِکھا جا چُکا ہے
کہ صدیوں پہلے ہی اِک جنگ کے بارے میں سوچا جا چُکا ہے
زمین تیری تپِش کم ہونے میں اب ہے ذرا سی دیر باقی
کمانوں کو حدِ اِمکان تک میداں میں کھینچا جا چُکا ہے
بگولے حلقہ باندھے بَین کرتے ہیں اَلَم کی سَرزمیں پر
سِنانِ ظُلم کو غُربت کے سینے میں اُتارا جا چُکا ہے