جب شورِ سگاں دہر میں قامت کی سند ہو
پھر کس کا بھلا شہر میں اندازۂ قد ہو
ہوتی ہے عیاں چہرے سے آنکھوں سے زباں سے
سینے میں اگر بھڑکی ہوئی نارِ حسد ہو
جب طے تھی ملاقات، یہ ممکن ہے اسی دن
کافور ہوں کب دنیا سے ہم، اس کی خبر کیا
کب مُشک لگے جسم سے تزئینِ لحد ہو
ہیں دل میں مِرے گرہیں تو لکنت ہے زباں میں
الفاظ کی خیرات سے کچھ میری مدد ہو
میں نے تو عریضہ کیا دریا کے حوالے
اب بارگہِ دل میں ہو مقبول یا رد ہو
عارف خواجہ
No comments:
Post a Comment