Thursday, 5 January 2017

کنار آبجو پیاسا نہیں ہے

کنارِ آب جُو پیاسا نہیں ہے
کوئی خیمہ کوئی پہرہ نہیں ہے
ابھی مشکل میں ہوں اے زندگانی
تِرے بارے ابھی سوچا نہیں ہے
نتیجہ جانتا ہوں میں، سو میں نے
کسی بھی شخص کو پرکھا نہیں ہے
اسے پا کر، نہیں میں لڑکھڑایا
دلِ بے تاب تک دھڑکا نہیں ہے
برا تو سو برا ہے، اس نگر میں
جو اچھا ہے وہی اچھا نہیں ہے
بھلا بیٹھی ہے کوئل اپنی کُو کُو
کوئی نغمہ نہیں، نوحہ نہیں ہے
نہ، پی ہُو بولتا ہے اب پپیہا
گل و بلبل میں بھی رشتہ نہیں ہے
گھٹا چھائی ہے دل کے آسماں پر
پہ بادل ٹوٹ کے برسا نہیں ہے
نہیں آئیں گے مہماں کیونکہ کاگا
منڈیرِ جان پر بیٹھا نہیں ہے
دمِ رخصت امڈ آئے ہیں آنسو
کہ مڑ کے اس نے بھی دیکھا نہیں ہے
فلک خاموش کیوں ہو اس ستم پر
زمیں سے کیا تِرا رشتہ نہیں ہے
چھیالیس سال کا ہونے کو آیا 
ہُوا یہ دل ابھی بوڑھا نہیں ہے

عارف خواجہ

No comments:

Post a Comment