پرانی راہ سے ہٹ کر نیا رستہ بنانا ہے
ہمیں خود کو ہر اک پہلو سے یارو آزمانا ہے
کچھ ایسے محو ہونا ہے بالآخر اپنی ہستی میں
کسی کو یاد رکھنا ہے، کسی کو بھول جانا ہے
بہت مصروف گزرے گا یہ لگتا ہے نیا دن بھی
بساطِ دل پہ ہم دونوں محبت کے پیادے ہیں
ہمِیں کو مات ہونا ہے بڑا شاطر زمانہ ہے
محبت ٹوٹ کے کرنا کہ آخر وقت کے ہاتھوں
تجھے بھی ٹوٹ جانا ہے مجھے بھی ٹوٹ جانا ہے
عارف خواجہ
No comments:
Post a Comment