عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
ہاں! اے نفسِ بادِ سحر شعلہ فشاں ہو
اے دجلۂ خوں! چشمِ ملائک سے رواں ہو
اے زمزمۂ قُم! لبِ عیسیٰؑ پہ فغاں ہو
اے ماتمیانِ شہِؑ مظلوم! کہاں ہو
بگڑی ہے بہت بات، بنائے نہیں بنتی
اب گھر کو بغیر آگ لگائے نہیں بنتی
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
ہاں! اے نفسِ بادِ سحر شعلہ فشاں ہو
اے دجلۂ خوں! چشمِ ملائک سے رواں ہو
اے زمزمۂ قُم! لبِ عیسیٰؑ پہ فغاں ہو
اے ماتمیانِ شہِؑ مظلوم! کہاں ہو
بگڑی ہے بہت بات، بنائے نہیں بنتی
اب گھر کو بغیر آگ لگائے نہیں بنتی
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت سلام
سلام اسے کہ اگر بادشا کہیں اُسؑ کو
تو پھر کہیں کہ کچھ اِس سے سوا کہیں اس کو
نہ بادشاہ نہ سلطاں، یہ کیا ستائش ہے
کہو کہ خامسِ آلِ عباؑ کہیں اس کو
خدا کی راہ میں ہے شاہی و خسروی کیسی
کہو کہ رہبرِ راہِ خدا کہیں اس کو
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
تمنائے دیرینہ کردگار
بوے ایزد از خویش امیدوار
وہ کردگار کی دیرینہ تمنا کی تکمیل ہیں
ان سے خالق کی امیدیں وابستہ ہیں
تن از نور پالودہ سر چشمہ
دلے ہمچو مہتاب در چشمہ
گر خامشی سے فائدہ اخفائے حال ہے
خوش ہوں کہ میری بات سمجھنی محال ہے
کس کو سناؤں حسرتِ اظہار کا گلہ؟
دل فردِ جمع و خرچِ زباں ہائے لال ہے
کس پردے میں ہے آئینہ پرداز اے خدا
رحمت کہ عذر خواہ لبِ بے سوال ہے
بے اعتدالیوں سے سُبک سب میں ہم ہوئے
جتنے زیادہ ہو گئے، اتنے ہی کم ہوئے
پنہاں تھا دامِ سخت، قریب آشیان کے
اُڑنے نہ پائے تھے کہ گرفتار ہم ہوئے
ہستی ہماری، اپنی فنا پر دلیل ہے
یاں تک مِٹے کہ آپ ہم اپنی قسم ہوئے
مثنوی در صفتِ انبہ
ہاں، دلِ درد مندِ زمزمہ ساز
کیوں نہ کھولے درِ خزینۂ راز
خامے کا صفحے پر رواں ہونا
شاخِ گل کا ہے گل فشاں ہونا
مجھ سے کیا پوچھتا ہے کیا لکھیے
نکتہ ہائے خرد فزا لکھیے
نشاطِ معنویاں از شراب خانہ تست
فسونِ بابلیاں فصلے از افسانہ تست
اہلِ طریقت بھی تیری ہی شراب سے سرشار ہیں
اہلِ بابل کا سارا جادو بھی تیرے افسانے کا ایک باب ہے
بہ جام و آئینہ حرف جم و سکندر چیست
کہ ہر چہ رفت بہ ہر عہد در زمانہ تست