Showing posts with label مرزا غالب. Show all posts
Showing posts with label مرزا غالب. Show all posts

Friday, 26 July 2024

ہاں اے نفس باد سحر شعلہ فشاں ہو

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


ہاں! اے نفسِ بادِ سحر شعلہ فشاں ہو

اے دجلۂ خوں! چشمِ ملائک سے رواں ہو

اے زمزمۂ قُم! لبِ عیسیٰؑ پہ فغاں ہو

اے ماتمیانِ شہِؑ مظلوم! کہاں ہو

بگڑی ہے بہت بات، بنائے نہیں بنتی

اب گھر کو بغیر آگ لگائے نہیں بنتی

Sunday, 23 July 2023

سلام اسے کہ اگر بادشا کہیں اس کو

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت سلام


سلام اسے کہ اگر بادشا کہیں اُسؑ کو

تو پھر کہیں کہ کچھ اِس سے سوا کہیں اس کو

نہ بادشاہ نہ سلطاں، یہ کیا ستائش ہے

کہو کہ خامسِ آلِ عباؑ کہیں اس کو

خدا کی راہ میں ہے شاہی و خسروی کیسی

کہو کہ رہبرِ راہِ خدا کہیں اس کو

Thursday, 29 June 2023

وہ کردگار کی دیرینہ تمنا کی تکمیل ہیں

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


تمنائے دیرینہ کردگار

بوے ایزد از خویش امیدوار

وہ کردگار کی دیرینہ تمنا کی تکمیل ہیں

ان سے خالق کی امیدیں وابستہ ہیں

تن از نور پالودہ سر چشمہ

دلے ہمچو مہتاب در چشمہ

Sunday, 24 July 2022

گر خامشی سے فائدہ اخفائے حال ہے

 گر خامشی سے فائدہ اخفائے حال ہے

خوش ہوں کہ میری بات سمجھنی محال ہے

کس کو سناؤں حسرتِ اظہار کا گلہ؟

دل فردِ جمع و خرچِ زباں ہائے لال ہے

کس پردے میں ہے آئینہ پرداز اے خدا

رحمت کہ عذر خواہ لبِ بے سوال ہے

Friday, 15 July 2022

بے اعتدالیوں سے سبک سب میں ہم ہوئے

 بے اعتدالیوں سے سُبک سب میں ہم ہوئے​

جتنے زیادہ ہو گئے، اتنے ہی کم ہوئے​

پنہاں تھا دامِ سخت، قریب آشیان کے​

اُڑنے نہ پائے تھے کہ گرفتار ہم ہوئے​

ہستی ہماری، اپنی فنا پر دلیل ہے ​

یاں تک مِٹے کہ آپ ہم اپنی قسم ہوئے

Saturday, 25 June 2022

بارے آموں کا کچھ بیاں ہو جائے

 مثنوی در صفتِ انبہ


ہاں، دلِ درد مندِ زمزمہ ساز

کیوں نہ کھولے درِ خزینۂ راز

خامے کا صفحے پر رواں ہونا

شاخِ گل کا ہے گل فشاں ہونا

مجھ سے کیا پوچھتا ہے کیا لکھیے

نکتہ ہائے خرد فزا لکھیے

Thursday, 23 June 2022

اہل طریقت بھی تیری ہی شراب سے سرشار ہیں

 نشاطِ معنویاں از شراب خانہ تست

فسونِ بابلیاں فصلے از افسانہ تست

اہلِ طریقت بھی تیری ہی شراب سے سرشار ہیں

اہلِ بابل کا سارا جادو بھی تیرے افسانے کا ایک باب ہے

بہ جام و آئینہ حرف جم و سکندر چیست

کہ ہر چہ رفت بہ ہر عہد در زمانہ تست

Friday, 27 December 2019

واں پہنچ کر جو غش آتا پئے ہم ہے ہم کو

واں پہنچ کر جو غش آتا پۓ ہم ہے ہم کو 
صد رہ آہنگِ زمیں بوسِ قدم ہے ہم کو 
دل کو میں اور مجھے دل محوِ وفا رکھتا ہے 
کس قدر ذوقِ گرفتارئ ہم ہے ہم کو 
ضعف سے نقشِ پۓ مور، ہے طوقِ گردن 
تِرے کوچے سے کہاں طاقتِ رم ہے ہم کو 

درد ہو دل میں تو دوا کیجے

درد ہو دل میں تو دوا کیجے
دل ہی جب درد ہو تو کیا کیجے
ہم کو فریاد کرنی آتی ہے
آپ سنتے نہیں تو کیا کیجے
ان بتوں کو خدا سے کیا مطلب
توبہ توبہ، خدا خدا کیجے

نہ سنو گر برا کہے کوئی

نہ سنو گر برا کہے کوئی 
نہ کہو گر برا کرے کوئی 
روک لو گر غلط چلے کوئی 
بخش دو گر خطا کرے کوئی 
کون ہے جو نہیں ہے حاجت مند 
کس کی حاجت روا کرے کوئی 

Thursday, 15 February 2018

باغ تجھ بن گل نرگس سے ڈراتا ہے مجھے

باغ تجھ بن گل نرگس سے ڈراتا ہے مجھے
چاہوں گر سیرِ چمن، آنکھ دکھاتا ہے مجھے
باغ پا کر خفقانی یہ ڈراتا ہے مجھے
سایۂ شاخِ گُل افعی نظر آتا ہے مجھے
ماہِ نو ہوں، کہ فلک عجز سکھاتا ہے مجھے 
عمر بھر ایک ہی پہلو پہ سلاتا ہے مجھے

لطف نظارۂ قاتل دم بسمل آئے

لطفِ نظارۂ قاتل دمِ بسمل آئے
جان جائے تو بلا سے، پہ کہیں دل آئے
ان کو کیا علم کہ کشتی پہ مِری کیا گزری
دوست جو ساتھ مِرے تا لبِ ساحل آئے
وہ نہیں ہم کہ چلے جائیں حرم کو، اے شیخ
ساتھ حُجاج کے اکثر کئی منزِل آئے

غم کھانے میں بودا دل ناکام بہت ہے

غم کھانے میں بودا، دلِ ناکام بہت ہے
یہ رنج کہ کم ہے مئے گلفام، بہت ہے
کہتے ہوئے ساقی سے حیا آتی ہے، ورنہ
ہے یوں کہ، مجھے درد تہِ جام بہت ہے
نے تیر کماں میں ہے، نہ صیاد کمِیں میں
گوشے میں قفس کے مجھے آرام بہت ہے

جب تک دہان زخم نہ پیدا کرے کوئی

جب تک دہانِ زخم نہ پیدا کرے کوئی
مشکل کہ تجھ سے راہِ سخن وا کرے کوئی
عالم غبارِ وحشتِ مجنوں ہے سر بسر
کب تک خیالِ طرۂ لیلیٰ کرے کوئی
افسردگی نہیں طرب انشائے التفات
ہاں درد بن کے دل میں مگر جا کرے کوئی

Wednesday, 15 February 2017

ملتی ہے خوئے یار سے نار التہاب میں

ملتی ہے خوئے یار سے نار التہاب میں
کافر ہوں گر نہ ملتی ہو راحت عذاب میں
کب سے ہُوں، کیا بتاؤں جہانِ خراب میں
شبہائے ہجر کو بھی رکھوں گر حساب میں
تا پھر نہ انتظار میں نیند آئے عمر بھر
آنے کا عہد کر گئے آئے جو خواب میں

یونہی افزائش وحشت کے جو ساماں ہوں گے

یونہی افزائشِ وحشت کے جو ساماں ہوں گے
دل کے سب زخم بھی ہمشکلِ گریباں ہوں گے
وجہِ مایوسئ عاشق ہے تغافل ان کا
نہ کبھی قتل کریں گے، نہ پشیماں ہوں گے
دل سلامت ہے تو صدموں کی کمی کیا ہم کو
بے شک ان سے تو بہت جان کے خواہاں ہوں گے

اس جور و جفا پر بھی بدظن نہیں ہم تجھ سے

اس جور و جفا پر بھی بدظن نہیں ہم تجھ سے
کیا طرفہ تمنا ہے امیدِ کرم تجھ سے
امیدِ نوازش میں کیوں جیتے تھے ہم آخر
سہتے ہی نہیں کوئی جب درد و الم تجھ سے
وارفتگیِ دل ہے یا دستِ تصرف ہے
ہیں اپنے تخیل میں دن رات بہم تجھ سے

سکوت و خامشی اظہار حال بے زبانی ہے

سکوت و خامشی اظہارِ حالِ بے زبانی ہے
کمینِ درد میں پوشیدہ رازِ شادمانی ہے
عیاں ہیں حال و قالِ شیخ سے اندازِ دلچسپی
مگر رندِ قدح کش کا ابھی دورِ جوانی ہے
ثباتِ چند روزہ کار فرمائے غم و حسرت
اجل سرمایہ دارِ دورِ عیش و کامرانی ہے

Saturday, 21 January 2017

ہوئی تاخیر تو کچھ باعث تاخیر بھی تھا

ہوئی تاخیر تو کچھ باعثِ تاخیر بھی تھا
آپ آتے تھے مگر کوئی عناں گیر بھی تھا
تم سے بے جا ہے مجھے اپنی تباہی کا گلہ
اس میں کچھ شائبۂ خوبئ تقدیر بھی تھا
تُو مجھے بھول گیا ہو تو پتا بتلا دوں
کبھی فتراک میں تیرے کوئی نخچیر بھی تھا

وہ میری چین جبیں سے غم پنہاں سمجھا

وہ میری چینِ جبیں سے غمِ پنہاں سمجھا
رازِ مکتوب بہ بے ربطئ عنواں سمجھا
شرحِ اسبابِ گرفتارئ خاطر مت پوچھ
اس قدر تنگ ہوا دل کہ میں زنداں سمجھا
بدگمانی نے نہ چاہا اسے سرگرمِ خرام
رخ پہ ہر قطرہ عرق دیدۂ حیراں سمجھا