Wednesday, 28 October 2026

تم مسکراتے ہو تو بے حد یاد آتے ہو

 ہمیں معلُوم ہے

شاید تمہیں بھی عِلم ہو کہ 

درد کا آشوب، گھر کے شور میں

تنہائیاں تسخِیر کرتا ہے

زمانے بھر کی وحشت کو

در و دِیوار کی تقدِیر کرتا ہے

زباں کا جبر

آنسُو کے صحِیفے

وقت کے افلاک پر تحرِیر کرتا ہے

شبیہہ دوست کو

منظر بہ منظر کُو بہ کُو تصوِیر کرتا ہے

اور اپنے آپ کو

غم کی عقُوبت گاہ میں زنجِیر کرتا ہے

مگر

جب بھی کبھی ان گھور اندھیروں میں

کہیں

تم مُسکراتے ہو

تو بے حد یاد آتے ہو


ریحانہ روحی

No comments:

Post a Comment