عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
پھر دل کو گدگداتی ہے الفت رسولﷺ کی
شاید نصیب ہو گی زیارت رسولﷺ کی
جس طرح پھیلے چاندنی دنیا میں ہر طرف
پھیلی تھی یوں زمانے میں شہرت رسول کی
راضی خدا ہوا ہے صحابہ سے اس لیے
حاصل نہیں ہوئی تھی رفاقت رسول کی
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
پھر دل کو گدگداتی ہے الفت رسولﷺ کی
شاید نصیب ہو گی زیارت رسولﷺ کی
جس طرح پھیلے چاندنی دنیا میں ہر طرف
پھیلی تھی یوں زمانے میں شہرت رسول کی
راضی خدا ہوا ہے صحابہ سے اس لیے
حاصل نہیں ہوئی تھی رفاقت رسول کی
وابستہ ہو گئے ہیں تِرے آستاں سے ہم
اٹھے تو جان دے کے اٹھیں گے یہاں ہم
تقسیم بادہ میں ہے یہ تخصیص کس لیے؟
موقع ملا تو پوچھیں گے پیرِ مغاں سے ہم
ترتیب دے چکے ہیں محبت کی داستاں
یہ سوچتے ہیں ان کو سنائیں کہاں سے ہم
الٹا دستور ہے ساقی تِرے مے خانے کا
وہ ہے محروم جو حقدار ہے پیمانے کا
دیکھا منظر جو کسی پھول کے کھل جانے کا
راز سب کھل گیا ہستی کے گزر جانے کا
غم سے ہوتا ہے وہ خوش اور خوشی سے غمگین
یہ طریقہ ہے نرالا تِرے دیوانے کا
اے محبت! دیکھ توہین شکیبائی نہ ہو
میرا کچھ بھی حشر ہو بس ان کی رُسوائی نہ ہو
ہم سے پوچھو جلوۂ بے رنگ کی رنگینیاں
خاک دیکھیں گی وہ آنکھیں جن میں بینائی نہ ہو
کس نے دستک دی یہ دروازہ پہ جا کر
مژدہ فصلِ بہاراں صبحِ نو لائی نہ ہو