Showing posts with label موسیٰ بھوپالی. Show all posts
Showing posts with label موسیٰ بھوپالی. Show all posts

Wednesday, 8 January 2025

پھر دل کو گدگداتی ہے الفت رسول کی

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


پھر دل کو گدگداتی ہے الفت رسولﷺ کی

شاید نصیب ہو گی زیارت رسولﷺ کی

جس طرح پھیلے چاندنی دنیا میں ہر طرف

پھیلی تھی یوں زمانے میں شہرت رسول کی

راضی خدا ہوا ہے صحابہ سے اس لیے

حاصل نہیں ہوئی تھی رفاقت رسول کی

Saturday, 28 December 2024

وابستہ ہو گئے ہیں ترے آستاں سے ہم

 وابستہ ہو گئے ہیں تِرے آستاں سے ہم

اٹھے تو جان دے کے اٹھیں گے یہاں ہم

تقسیم بادہ میں ہے یہ تخصیص کس لیے؟

موقع ملا تو پوچھیں گے پیرِ مغاں سے ہم

ترتیب دے چکے ہیں محبت کی داستاں

یہ سوچتے ہیں ان کو سنائیں کہاں سے ہم

Friday, 27 December 2024

الٹا دستور ہے ساقی ترے میخانے کا

 الٹا دستور ہے ساقی تِرے مے خانے کا

وہ ہے محروم جو حقدار ہے پیمانے کا

دیکھا منظر جو کسی پھول کے کھل جانے کا

راز سب کھل گیا ہستی کے گزر جانے کا

غم سے ہوتا ہے وہ خوش اور خوشی سے غمگین

یہ طریقہ ہے نرالا تِرے دیوانے کا

Saturday, 11 September 2021

اے محبت دیکھ توہین شکیبائی نہ ہو

اے محبت! دیکھ توہین شکیبائی نہ ہو

میرا کچھ بھی حشر ہو بس ان کی رُسوائی نہ ہو

ہم سے پوچھو جلوۂ بے رنگ کی رنگینیاں

خاک دیکھیں گی وہ آنکھیں جن میں بینائی نہ ہو

کس نے دستک دی یہ دروازہ پہ جا کر

مژدہ فصلِ بہاراں صبحِ نو لائی نہ ہو