اے محبت! دیکھ توہین شکیبائی نہ ہو
میرا کچھ بھی حشر ہو بس ان کی رُسوائی نہ ہو
ہم سے پوچھو جلوۂ بے رنگ کی رنگینیاں
خاک دیکھیں گی وہ آنکھیں جن میں بینائی نہ ہو
کس نے دستک دی یہ دروازہ پہ جا کر
مژدہ فصلِ بہاراں صبحِ نو لائی نہ ہو
ہم نشیں پروردۂ درد و الم ہے میری ذات
کون سی وہ موج ہے جو مجھ سے ٹکرائی نہ ہو
زندگی جیسا نہ ہوگا کوئی بیگانہ مزاج
ایک مدت ساتھ رہ کر بھی شناسائی نہ ہو
تازگی سی ہے ہواؤں میں فضا میں نغمگی
ہم قفس صحن گلستاں میں بہار آئی نہ ہو
تیرا موسیٰ ایک عاصی، تُو ہے رحمان و رحیم
یا الٰہی! حشر کے دن اس کی رُسوائی نہ ہو
محمد موسیٰ ساگری بھوپالی
No comments:
Post a Comment