Showing posts with label ایوب ذوقی. Show all posts
Showing posts with label ایوب ذوقی. Show all posts

Sunday, 15 August 2021

ہم ہجر کی کالی راتوں میں جب بستر خواب پہ جاتے ہیں

 ہم ہجر کی کالی راتوں میں جب بستر خواب پہ جاتے ہیں

ماضی کے تمام مصائب اک اک کر کے سامنے آتے ہیں

پھر مستقبل کے بھیانک چہرے پر جب نظریں پڑتی ہیں

اس ہیبت ناک تصور سے ہم ڈرتے ہیں گھبراتے ہیں

غیروں سے وہ ملتے رہتے ہیں خود جا جا کر تنہائی میں

میرا کیا ہے ذکر بھلا مِرے سائے سے بھی شرماتے ہیں

Friday, 6 August 2021

اک انقلاب مسلسل ہے زندگی میری

 اک انقلابِ مسلسل ہے زندگی میری

اک اضطرابِ مکمل ہے خامشی میری

یہ کس مقام پہ پہنچی خود آگہی میری

کہ آج آپ نے محسوس کی کمی میری

مزاجِ حسن کو بھائی نہ بندگی میری

نیازِ عشق میں شامل رہی خودی میری

Thursday, 5 August 2021

عجب بے کیف ہے راتوں کی تنہائی کئی دن سے

 عجب بے کیف ہے راتوں کی تنہائی کئی دن سے

کسی کی یاد بھی دل میں نہیں آئی کئی دن سے

بہت مغموم ہے شانِ مسیحائی کئی دن سے

بڑھی جاتی ہے زخمِ دل کی گہرائی کئی دن سے

کلی نے بھی اڑایا تھا مذاقِ گِریۂ شبنم

پڑی ہے خاک پر خشک اور مُرجھائی کئی دن سے

Friday, 30 July 2021

وہ نام زہر کا رکھ دیں دوا تو کیا ہو گا

 وہ نام زہر کا رکھ دیں دوا تو کیا ہو گا

کہیں جو خون کو رنگِ حنا تو کیا ہو گا

چمن کی سمت چلا تو ہے کاروانِ بہار

جو راہزن ہی ہوئے رہنما تو کیا ہو گا

حریفِ سیلِ حوادث تو ہے سفینۂ قوم

جو نذرِ موج ہوا نا خدا تو کیا ہو گا

Monday, 29 March 2021

وہ نماز عشق ہی کیا جو سلام تک نہ پہنچے

 وہ نمازِ عشق ہی کیا جو سلام تک نہ پہنچے

کہ قعود سے جو گزرے تو قیام تک نہ پہنچے

وہ حیات کیا کہ جس میں نہ خوشی کے ساتھ غم ہو

وہ سحر بھی کیا سحر ہے کہ جو شام تک نہ پہنچے

تِرے مے کدے کا ساقی یہ چلن بھی کیا چلن ہے

کہ جو ہاتھ تشنہ کاموں کے بھی جام تک نہ پہنچے