Sunday, 15 August 2021

ہم ہجر کی کالی راتوں میں جب بستر خواب پہ جاتے ہیں

 ہم ہجر کی کالی راتوں میں جب بستر خواب پہ جاتے ہیں

ماضی کے تمام مصائب اک اک کر کے سامنے آتے ہیں

پھر مستقبل کے بھیانک چہرے پر جب نظریں پڑتی ہیں

اس ہیبت ناک تصور سے ہم ڈرتے ہیں گھبراتے ہیں

غیروں سے وہ ملتے رہتے ہیں خود جا جا کر تنہائی میں

میرا کیا ہے ذکر بھلا مِرے سائے سے بھی شرماتے ہیں

مجھ میں اور میرے رقیبوں میں ہے فرق بس اتنا تھوڑا سا

ان کو صورت دکھلاتے ہیں مجھ کو آنکھیں دکھلاتے ہیں

شاید اس کل سے مراد ہوا کرتی ہے قیامت کی دوری

ذوقی سے وہ اپنے جب بھی کبھی کل کا وعدہ فرماتے ہیں


ایوب ذوقی

No comments:

Post a Comment