Showing posts with label عزم شاکری​. Show all posts
Showing posts with label عزم شاکری​. Show all posts

Tuesday, 22 June 2021

زندگی یوں بھی گزاری جا رہی ہے

 زندگی یوں بھی گزاری جا رہی ہے

جیسے کوئی جنگ ہاری جا رہی ہے

جس جگہ پہلے کے زخموں کے نشاں میں

پھر وہیں پر چوٹ ماری جا رہی ہے

وقتِ رخصت آب دیدہ آپ کیوں ہیں

جسم سے تو جاں ہماری جا رہی ہے

Monday, 8 February 2021

تیرگی میں صبح کی تنویر بن جائیں گے ہم

 تیرگی میں صبح کی تنویر بن جائیں گے ہم

خواب تم دیکھو گے اور تعبیر بن جائیں گے ہم

اب کے یہ سوچا ہے گر آزاد تم نے کر دیا

خود ہی اپنے پاؤں کی زنجیر بن جائیں گے ہم

آنسوؤں سے لکھ رہے ہیں بے بسی کی داستاں

لگ رہا ہے درد کی تصویر بن جائیں گے ہم

Tuesday, 29 September 2020

شب کی آغوش میں مہتاب اتارا اس نے

شب کی آغوش میں مہتاب اتارا اس نے

میری آنکھوں میں کوئی خواب اتارا اس نے

سلسلہ ٹوٹا نہیں موم صفت لوگوں کا

پتھروں میں دل بے تاب اتارا اس نے

ہم سمجھتے تھے کہ اب کوئی نہ آئے گا یہاں

دل کے صحرا میں بھی اسباب اتارا اس نے

Monday, 28 September 2020

چاند سا چہرہ کچھ اتنا بے باک ہوا

 چاند سا چہرہ کچھ اتنا بے باک ہوا

ایک ہی پل میں شب کا دامن چاک ہوا

گھر کے اندر سیدھے سچے لوگ ملے

بیٹا پردیسی ہو کر چالاک ہوا

دروازوں کی راتیں چوکیدار ہوئیں

اور اجالا جسموں کی پوشاک ہوا

Sunday, 27 September 2020

تیرے خیال کی شمعیں جلائے بیٹھے ہیں

تیرے خیال کی شمعیں جلائے بیٹھے ہیں

درونِ جاں کوئی محفل سجائے بیٹھے ہیں

گلی سے آج کوئی ماہتاب گزرے گا

ستارے شام سے پلکیں بچھائے بیٹھے ہیں

انہی سے پوچھئے تفصیلِ وسعتِ صحرا

جو لوگ عشق میں دنیا لٹائے بیٹھے ہیں

Saturday, 26 September 2020

ہمارے دل میں جو آتش فشاں ہے

 ہمارے دل میں جو آتش فشاں ہے

جہنم میں بھی وہ گرمی کہاں ہے

میں اپنی حد میں داخل ہو رہا ہوں

مِرے قدموں کے نیچے آسماں ہے

بہت دن سے پڑی ہیں خشک آنکھیں

مگر سینے میں اک دریا رواں ہے

Tuesday, 22 September 2020

اہل دل درد کی املاک سے وابستہ ہیں

 اہلِ دل درد کی املاک سے وابستہ ہیں

تیرے دیوانے تِری خاک سے وابستہ ہیں

جو عطا کی تھی بزرگوں نے قبا کی صورت

آج تک ہم اسی پوشاک سے وابستہ ہیں

آشیاں جلنے پہ بے گھر نہیں سمجھا جائے

یہ پرندے خس و خاشاک سے وابستہ ہیں

Sunday, 20 September 2020

شاد تھے صیاد نے ناشاد ہم کو کر دیا

 شاد تھے صیاد نے ناشاد ہم کو کر دیا

قید راس آئی تو پھر آزاد ہم کو کر دیا

روز نا کردہ گناہوں کی سزا سہتے ہیں ہم

وقت نے کیسا ستم ایجاد ہم کو کر دیا

ہم تھے آئینہ ہماری بدنصیبی تھی کہ جو

پتھروں کے شہر میں آباد ہم کو کر دیا

اپنے دکھ درد کا افسانہ بنا لایا ہوں

 اپنے دکھ درد کا افسانہ بنا لایا ہوں

ایک اک زخم کو چہرے پہ سجا لایا ہوں

دیکھ چہرے کی عبارت کو کھرچنے کے لیے

اپنے ناخن ذرا کچھ اور بڑھا لایا ہوں

بے وفا لوٹ کے آ دیکھ مِرا جذبۂ عشق

آنسوؤں سے تِری تصویر بنا لایا ہوں

Saturday, 19 September 2020

یہ مت کہو کہ بھیڑ میں تنہا کھڑا ہوں میں

 یہ مت کہو کہ بھیڑ میں تنہا کھڑا ہوں میں

ٹکرا کے آبگینے سے پتھر ہوا ہوں میں

آنکھوں کے جنگلوں میں مجھے مت کرو تلاش

دامن پہ آنسوؤں کی طرح آ گیا ہوں میں

یوں بے رخی کے ساتھ نہ منہ پھیر کے گزر

اے صاحبِ جمال ترا آئینہ ہوں میں

عجیب حالت ہے جسم و جاں کی ہزار پہلو بدل رہا ہوں

 عجیب حالت ہے جسم و جاں کی ہزار پہلو بدل رہا ہوں

وہ میرے اندر اتر گیا ہے میں خود سے باہر نکل رہا ہوں

بہت سے لوگوں میں پاؤں ہو کر بھی چلنے پھرنے کا دم نہیں ہے

مِرے خدا کا کرم ہے مجھ پر میں اپنے پیروں سے چل رہا ہوں

میں کتنے اشعار لکھ کے کاغذ پہ پھاڑ دیتا ہوں بے خودی میں

مجھے پتہ ہے میں اژدہا بن کے اپنے بچے نگل رہا ہوں

Friday, 18 September 2020

خون آنسو بن گیا آنکھوں میں بھر جانے کے بعد

 خون آنسو بن گیا آنکھوں میں بھر جانے کے بعد

آپ آئے تو مگر طوفاں گزر جانے کے بعد

چاند کا دُکھ بانٹنے نکلے ہیں اب اہلِ وفا

روشنی کا سارا شیرازہ بکھر جانے کے بعد

ہوش کیا آیا مسلسل جل رہا ہوں ہجر میں

اک سنہری رات کا نشہ اتر جانے کے بعد

دریدہ پیرہنوں میں شمار ہم بھی ہیں

 دریدہ پیرہنوں میں شمار ہم بھی ہیں

بہت دنوں سے انا کے شکار ہم بھی ہیں

فقط تمہیں کو نہیں عشق میں یہ در بدری

تمہاری چاہ میں گرد و غبار ہم بھی ہیں

چڑھی جو دھوپ تو ہوش و حواس کھو بیٹھے

جو کہہ رہے تھے شجر سایہ دار ہم بھی ہیں

Thursday, 17 September 2020

آنکھ سے کوئی پردہ اٹھا ہی نہیں

 آنکھ سے کوئی پردہ اٹھا ہی نہیں

جو تماشا تھا ہونا، ہوا ہی نہیں

عشق تو بس، وہ پہلے پہل کا تھا

اب تو دل ٹوٹنے کی صدا ہی نہیں

اپنی شرطوں پہ دنیا میں زندہ ہیں لوگ

لگ رہا ہے زمیں پر خدا ہی نہیں

لاکھوں صدمے ڈھیروں غم

لاکھوں صدمے ڈھیروں غم

پھر بھی نہیں ہیں آنکھیں نم

اک مدت سے روئے نہیں

کیا پتھر کے ہو گئے ہم؟

یوں پلکوں پر ہیں آنسو

جیسے پھولوں پر شبنم

Tuesday, 15 September 2020

آج تک کیسے گزاری ہے یہ اب پوچھتی ہے

آج تک کیسے گزاری ہے یہ اب پوچھتی ہے
رات ٹوٹے ہوئے تاروں کا سبب پوچھتی ہے
تُو اگر چھوڑ کے جانے پہ تُلا ہے، تو جا
جان بھی جسم سے جاتی ہے تو کب پوچھتی ہے
کل مِرے سر پہ مِرا تاج تھا تو سب تھے مِرے
آج دنیا یہ مِرا نام و نسب پوچھتی ہے

جو پھولوں سے وابستہ ہو جاتے ہیں

جو پھولوں سے وابستہ ہو جاتے ہیں
وہ خوشبو کا اک حصہ ہو جاتے ہیں
رونے والو! ان کو دامن میں رکھ لو
ورنہ آنسو آوارہ ہو جاتے ہیں
دولت کا نشہ بھی کیسا نشہ ہے
گونگے بہرے لوگ خدا ہو جاتے ہیں

Monday, 14 September 2020

کچھ ایسے نظر صاحب کردار بھی آئے

کچھ ایسے نظر صاحبِ کردار بھی آئے
تعظیم کو جن کی در و دیوار بھی آئے
تاریکئ شب نے مِرا دامن نہیں چھوڑا
حالانکہ نظر صبح کے آثار بھی آئے
اے وعدہ فروشو! ہمیں حیرت سے نہ دیکھو
ہم اہلِ وفا تھے تو سرِ دار بھی آئے

Sunday, 13 September 2020

خاک اڑاتے ہوئے یہ معرکہ سر کرنا ہے

خاک اڑاتے ہوئے یہ معرکہ سر کرنا ہے
اک نہ اک دن ہمیں اس دشت کو گھر کرنا ہے
یہ جو دیوار اندھیروں نے اٹھا رکھی ہے
میرا مقصد اسی دیوار میں در کرنا ہے
اس لیے سینچتا رہتا ہوں میں اشکوں سے اسے
غم کے پودے کو کسی روز شجر کرنا ہے

اگر دشت طلب سے دشت امکانی میں آ جاتے

اگر دشت طلب سے دشت امکانی میں آ جاتے
محبت کرنے والے دل، پریشانی میں آ جاتے
حصار صبر سے جس روز میں باہر نکل جاتا
سمندر خود مِری آنکھوں کی ویرانی میں آ جاتے
اگر سائے سے جل جانے کا اتنا خوف تھا تو پھر
سحر ہوتے ہی سورج کی نگہبانی میں آ جاتے