زندگی یوں بھی گزاری جا رہی ہے
جیسے کوئی جنگ ہاری جا رہی ہے
جس جگہ پہلے کے زخموں کے نشاں میں
پھر وہیں پر چوٹ ماری جا رہی ہے
وقتِ رخصت آب دیدہ آپ کیوں ہیں
جسم سے تو جاں ہماری جا رہی ہے
زندگی یوں بھی گزاری جا رہی ہے
جیسے کوئی جنگ ہاری جا رہی ہے
جس جگہ پہلے کے زخموں کے نشاں میں
پھر وہیں پر چوٹ ماری جا رہی ہے
وقتِ رخصت آب دیدہ آپ کیوں ہیں
جسم سے تو جاں ہماری جا رہی ہے
تیرگی میں صبح کی تنویر بن جائیں گے ہم
خواب تم دیکھو گے اور تعبیر بن جائیں گے ہم
اب کے یہ سوچا ہے گر آزاد تم نے کر دیا
خود ہی اپنے پاؤں کی زنجیر بن جائیں گے ہم
آنسوؤں سے لکھ رہے ہیں بے بسی کی داستاں
لگ رہا ہے درد کی تصویر بن جائیں گے ہم
شب کی آغوش میں مہتاب اتارا اس نے
میری آنکھوں میں کوئی خواب اتارا اس نے
سلسلہ ٹوٹا نہیں موم صفت لوگوں کا
پتھروں میں دل بے تاب اتارا اس نے
ہم سمجھتے تھے کہ اب کوئی نہ آئے گا یہاں
دل کے صحرا میں بھی اسباب اتارا اس نے
چاند سا چہرہ کچھ اتنا بے باک ہوا
ایک ہی پل میں شب کا دامن چاک ہوا
گھر کے اندر سیدھے سچے لوگ ملے
بیٹا پردیسی ہو کر چالاک ہوا
دروازوں کی راتیں چوکیدار ہوئیں
اور اجالا جسموں کی پوشاک ہوا
تیرے خیال کی شمعیں جلائے بیٹھے ہیں
درونِ جاں کوئی محفل سجائے بیٹھے ہیں
گلی سے آج کوئی ماہتاب گزرے گا
ستارے شام سے پلکیں بچھائے بیٹھے ہیں
انہی سے پوچھئے تفصیلِ وسعتِ صحرا
جو لوگ عشق میں دنیا لٹائے بیٹھے ہیں
ہمارے دل میں جو آتش فشاں ہے
جہنم میں بھی وہ گرمی کہاں ہے
میں اپنی حد میں داخل ہو رہا ہوں
مِرے قدموں کے نیچے آسماں ہے
بہت دن سے پڑی ہیں خشک آنکھیں
مگر سینے میں اک دریا رواں ہے
اہلِ دل درد کی املاک سے وابستہ ہیں
تیرے دیوانے تِری خاک سے وابستہ ہیں
جو عطا کی تھی بزرگوں نے قبا کی صورت
آج تک ہم اسی پوشاک سے وابستہ ہیں
آشیاں جلنے پہ بے گھر نہیں سمجھا جائے
یہ پرندے خس و خاشاک سے وابستہ ہیں
شاد تھے صیاد نے ناشاد ہم کو کر دیا
قید راس آئی تو پھر آزاد ہم کو کر دیا
روز نا کردہ گناہوں کی سزا سہتے ہیں ہم
وقت نے کیسا ستم ایجاد ہم کو کر دیا
ہم تھے آئینہ ہماری بدنصیبی تھی کہ جو
پتھروں کے شہر میں آباد ہم کو کر دیا
اپنے دکھ درد کا افسانہ بنا لایا ہوں
ایک اک زخم کو چہرے پہ سجا لایا ہوں
دیکھ چہرے کی عبارت کو کھرچنے کے لیے
اپنے ناخن ذرا کچھ اور بڑھا لایا ہوں
بے وفا لوٹ کے آ دیکھ مِرا جذبۂ عشق
آنسوؤں سے تِری تصویر بنا لایا ہوں
یہ مت کہو کہ بھیڑ میں تنہا کھڑا ہوں میں
ٹکرا کے آبگینے سے پتھر ہوا ہوں میں
آنکھوں کے جنگلوں میں مجھے مت کرو تلاش
دامن پہ آنسوؤں کی طرح آ گیا ہوں میں
یوں بے رخی کے ساتھ نہ منہ پھیر کے گزر
اے صاحبِ جمال ترا آئینہ ہوں میں
عجیب حالت ہے جسم و جاں کی ہزار پہلو بدل رہا ہوں
وہ میرے اندر اتر گیا ہے میں خود سے باہر نکل رہا ہوں
بہت سے لوگوں میں پاؤں ہو کر بھی چلنے پھرنے کا دم نہیں ہے
مِرے خدا کا کرم ہے مجھ پر میں اپنے پیروں سے چل رہا ہوں
میں کتنے اشعار لکھ کے کاغذ پہ پھاڑ دیتا ہوں بے خودی میں
مجھے پتہ ہے میں اژدہا بن کے اپنے بچے نگل رہا ہوں
خون آنسو بن گیا آنکھوں میں بھر جانے کے بعد
آپ آئے تو مگر طوفاں گزر جانے کے بعد
چاند کا دُکھ بانٹنے نکلے ہیں اب اہلِ وفا
روشنی کا سارا شیرازہ بکھر جانے کے بعد
ہوش کیا آیا مسلسل جل رہا ہوں ہجر میں
اک سنہری رات کا نشہ اتر جانے کے بعد
دریدہ پیرہنوں میں شمار ہم بھی ہیں
بہت دنوں سے انا کے شکار ہم بھی ہیں
فقط تمہیں کو نہیں عشق میں یہ در بدری
تمہاری چاہ میں گرد و غبار ہم بھی ہیں
چڑھی جو دھوپ تو ہوش و حواس کھو بیٹھے
جو کہہ رہے تھے شجر سایہ دار ہم بھی ہیں
آنکھ سے کوئی پردہ اٹھا ہی نہیں
جو تماشا تھا ہونا، ہوا ہی نہیں
عشق تو بس، وہ پہلے پہل کا تھا
اب تو دل ٹوٹنے کی صدا ہی نہیں
اپنی شرطوں پہ دنیا میں زندہ ہیں لوگ
لگ رہا ہے زمیں پر خدا ہی نہیں
لاکھوں صدمے ڈھیروں غم
پھر بھی نہیں ہیں آنکھیں نم
اک مدت سے روئے نہیں
کیا پتھر کے ہو گئے ہم؟
یوں پلکوں پر ہیں آنسو
جیسے پھولوں پر شبنم