Monday, 8 February 2021

تیرگی میں صبح کی تنویر بن جائیں گے ہم

 تیرگی میں صبح کی تنویر بن جائیں گے ہم

خواب تم دیکھو گے اور تعبیر بن جائیں گے ہم

اب کے یہ سوچا ہے گر آزاد تم نے کر دیا

خود ہی اپنے پاؤں کی زنجیر بن جائیں گے ہم

آنسوؤں سے لکھ رہے ہیں بے بسی کی داستاں

لگ رہا ہے درد کی تصویر بن جائیں گے ہم

لکھ نہ پائے جو کسی کی نیم باز آنکھوں کا راز

وہ یہ وعدہ کر رہے ہیں میر بن جائیں گے ہم

گر یوں ہی بڑھتا رہا دن رات شغل مے کشی

ایک دن اس مے کدے کے پیر بن جائیں گے ہم

اس نے بھی اوروں کے جیسا ہی کیا ہم سے سلوک

جو یہ کہتا تھا تِری تقدیر بن جائیں گے ہم


عزم شاکری

No comments:

Post a Comment