Tuesday, 9 February 2021

سر کو جھکانے آیا ہے سر کو اٹھا کے چل

سر کو جُھکانے آیا ہے سر کو اُٹھا کے چل

تُو اپنا زورِ بازو عدُو کو دِکھا کے چل

مطلُوب ہے شہادتِ مردانہ وار بس

کشتوں کے پُشتے رزمِ عدُو میں لگا کے چل

اب نام لے جہاد کا نا ان سے بیر کا

طاغُوت کے ستم پہ نا سر کو جُھکا کے چل

جنّت میں تیری دِید کو ہیں منتظر نبیﷺ

تاجِ شہیدِ ختمِ نبوتﷺ سجا کے چل

اقصیٰ بھی مُنتظر ہے فلسطیں بھی مُنتظر

تُو عُمرؓ کا مُرید ہے سب کو بتا کے چل

اقصیٰ تو آج راہ تکے اس کے بیٹوں کی

جس نے ادا نماز کی مُصلیٰ بِچھا کے چل

رمزی تڑپ تڑپ کے گُزارے ہے روز و شب

اس کو بھی رزم گاہ میں ساتھی بنا کے چل


معین رمزی لہوری

No comments:

Post a Comment