Tuesday, 9 February 2021

خسارے زندگی کا حاصل ہوں یہ ضروری تو نہیں

 خسارے زندگی کا حاصل ہوں یہ ضروری تو نہیں

ہم بازی جیت کے ہارے ہوں یہ ضروری تو نہیں

جلی ہے تیری محفل جو گلہ نہ کر مجھ سے تو

وہ میری آہوں کے شرارے ہوں یہ ضروری تو نہیں

سنا ہے پار لگائے گا سفینہ میری چاہت کا

دریائے الفت کے کنارے ہوں یہ ضروری تو نہیں

عمر بھر کی ریاضتیں اک وفا کی نظر ہو ئیں

ہم تم قسمت کے مارے ہوں یہ ضروری تو نہیں

جدا ہو گیا مجھ سے وہ شخص جسے میرا ہونا تھا

عائش میں نے اشک بہائے ہوں یہ ضروری تو نہیں


عائشہ خان

No comments:

Post a Comment