یا رب وہ تھک نہ جائیں آنسو بہا بہا کر
روتے ہیں جو گلے سے مجھ کو لگا لگا کر
میری ہی داستاں ہے یہ بھی نہ کہہ سکوں میں
مجھ کو سنا رہے ہیں اتنی بڑھا بڑھا کر
اک رات میں لٹائی ساری وفا کی دولت
جوڑی تھی یہ رقم بھی کتنی بچا بچا کر
یا رب وہ تھک نہ جائیں آنسو بہا بہا کر
روتے ہیں جو گلے سے مجھ کو لگا لگا کر
میری ہی داستاں ہے یہ بھی نہ کہہ سکوں میں
مجھ کو سنا رہے ہیں اتنی بڑھا بڑھا کر
اک رات میں لٹائی ساری وفا کی دولت
جوڑی تھی یہ رقم بھی کتنی بچا بچا کر
میری محفل میں اگر چاند ستارے ہوتے
وہ بھی قربان مِری جان تمہارے ہوتے
مجھ کو صحراؤں سے جانے کی اجازت ہوتی
پھر یہ دریا نہ سمندر نہ کنارے ہوتے
وہ تو بس جھوٹی تسلی کو کہا تھا تم سے
ہم تو اپنے بھی نہیں، خاک تمہارے ہوتے
عکسِ خیالِ یار سنوارا کریں گے ہم
شیشے میں آئینے کو اتارا کریں گے ہم
صحرا میں اعتماد کے گم سم سماعتیں
کچھ لوگ کہہ رہے تھے پکارا کریں گے ہم
گردن کٹی ہے ہاتھ بھی شانوں سے کٹ گئے
قاتل کی سمت کیسے اشارا کریں گے ہم
وہ لوگ تو آنکھوں سے بھی دیکھا نہیں کرتے
جو دل کے دریچوں کو کبھی وا نہیں کرتے
ایسی ہی کشاکش میں اُلٹ جاتی ہے دنیا
سنبھلے نہ اگر دل تو سنبھالا نہیں کرتے
رکھتے ہیں محبت کو تغافل میں چُھپا کر
پرواہ ہی تو کرتے ہیں جو پرواہ نہیں کرتے
ہے ابھی تک اسی وحشت کی عنایت باقی
کوئی بھی چیز نہیں گھر کی سلامت باقی
میں بھلا ہاتھ دُعاؤں کو اُٹھاتا کیسے؟
اس نے چھوڑی ہی نہیں کوئی ضرورت باقی
اس نے ٹُوٹے ہوئے ٹکڑوں سے بھی پہچان لیا
ہے بکھر کر بھی میاں! میری نفاست باقی
کوئی مہلک سی بیماری ہوئی ہے
محبت آنکھ سے جاری ہوئی ہے
تیری رقت کی شدت سے ہے ظاہر
یہ میرے نام پر طاری ہوئی ہے
سزا ہے یہ معاشی ہجرتوں کی
بہت مصروف بے کاری ہوئی ہے
سارے تو نہیں جان بچانے میں لگے ہیں
کچھ گھاؤ ہمیں زخم لگانے میں لگے ہیں
ہے سب کو خبر شاہ کے چہرے پہ ہے کالک
آئینے مگر سارے چھپانے میں لگے ہیں
بیچ آئے اسے اس کے نگہبان کبھی کا
ہم لوگ مگر گھر کو سجانے میں لگے ہیں