Showing posts with label جنید اختر. Show all posts
Showing posts with label جنید اختر. Show all posts

Saturday, 29 October 2022

یا رب وہ تھک نہ جائیں آنسو بہا بہا کر

 یا رب وہ تھک نہ جائیں آنسو بہا بہا کر

روتے ہیں جو گلے سے مجھ کو لگا لگا کر

میری ہی داستاں ہے یہ بھی نہ کہہ سکوں میں

مجھ کو سنا رہے ہیں اتنی بڑھا بڑھا کر

اک رات میں لٹائی ساری وفا کی دولت

جوڑی تھی یہ رقم بھی کتنی بچا بچا کر

Saturday, 9 October 2021

میری محفل میں اگر چاند ستارے ہوتے

میری محفل میں اگر چاند ستارے ہوتے

وہ بھی قربان مِری جان تمہارے ہوتے

مجھ کو صحراؤں سے جانے کی اجازت ہوتی

پھر یہ دریا نہ سمندر نہ کنارے ہوتے

وہ تو بس جھوٹی تسلی کو کہا تھا تم سے

ہم تو اپنے بھی نہیں، خاک تمہارے ہوتے

Saturday, 2 October 2021

عکس خیال یار سنوارا کریں گے ہم

 عکسِ خیالِ یار سنوارا کریں گے ہم

شیشے میں آئینے کو اتارا کریں گے ہم

صحرا میں اعتماد کے گم سم سماعتیں

کچھ لوگ کہہ رہے تھے پکارا کریں گے ہم

گردن کٹی ہے ہاتھ بھی شانوں سے کٹ گئے

قاتل کی سمت کیسے اشارا کریں گے ہم

Friday, 1 October 2021

وہ لوگ تو آنکھوں سے بھی دیکھا نہیں کرتے

 وہ لوگ تو آنکھوں سے بھی دیکھا نہیں کرتے

جو دل کے دریچوں کو کبھی وا نہیں کرتے

ایسی ہی کشاکش میں اُلٹ جاتی ہے دنیا

سنبھلے نہ اگر دل تو سنبھالا نہیں کرتے

رکھتے ہیں محبت کو تغافل میں چُھپا کر

پرواہ ہی تو کرتے ہیں جو پرواہ نہیں کرتے

Tuesday, 28 September 2021

ہے ابھی تک اسی وحشت کی عنایت باقی

 ہے ابھی تک اسی وحشت کی عنایت باقی

کوئی بھی چیز نہیں گھر کی سلامت باقی

میں بھلا ہاتھ دُعاؤں کو اُٹھاتا کیسے؟

اس نے چھوڑی ہی نہیں کوئی ضرورت باقی

اس نے ٹُوٹے ہوئے ٹکڑوں سے بھی پہچان لیا

ہے بکھر کر بھی میاں! میری نفاست باقی

Wednesday, 14 July 2021

کوئی مہلک سی بیماری ہوئی ہے

 کوئی مہلک سی بیماری ہوئی ہے

محبت آنکھ سے جاری ہوئی ہے

تیری رقت کی شدت سے ہے ظاہر

یہ میرے نام پر طاری ہوئی ہے

سزا ہے یہ معاشی ہجرتوں کی

بہت مصروف بے کاری ہوئی ہے

Friday, 2 July 2021

سارے تو نہیں جان بچانے میں لگے ہیں

 سارے تو نہیں جان بچانے میں لگے ہیں

کچھ گھاؤ ہمیں زخم لگانے میں لگے ہیں

ہے سب کو خبر شاہ کے چہرے پہ ہے کالک

آئینے مگر سارے چھپانے میں لگے ہیں

بیچ آئے اسے اس کے نگہبان کبھی کا

ہم لوگ مگر گھر کو سجانے میں لگے ہیں