Friday, 2 July 2021

سارے تو نہیں جان بچانے میں لگے ہیں

 سارے تو نہیں جان بچانے میں لگے ہیں

کچھ گھاؤ ہمیں زخم لگانے میں لگے ہیں

ہے سب کو خبر شاہ کے چہرے پہ ہے کالک

آئینے مگر سارے چھپانے میں لگے ہیں

بیچ آئے اسے اس کے نگہبان کبھی کا

ہم لوگ مگر گھر کو سجانے میں لگے ہیں

بیٹھا ہی نہیں جاتا پرندوں میں بھی اب تو

بے پر کی یہاں یہ بھی اڑانے میں لگے ہیں

مرنے پہ کھلی ہے تِرے درویش کی قیمت

پتھر بھی سرہانے کے خزانے میں لگے ہیں

صحرا میں چلا آیا ہوں کچھ پیاس بجھا لوں

دریاؤں پہ سب پینے پلانے میں لگے ہیں

آ جائے گی چکر میں ہمارے وہ کسی دن

ہم گردشِ دوراں کو گھمانے میں لگے ہیں

لگتا ہی نہیں دورِ محبت بھی کبھی تھا

اب لوگ یہاں صرف کمانے میں لگے ہیں

اس نے بھی تو ہے وقت کی گردش کو سنوارا

اختر سے کئی چاند زمانے میں لگے ہیں


جنید اختر

No comments:

Post a Comment