جھیل آنکھوں میں محبت کے کنول ہوتے ہیں
دل میں اتریں تو یہ عنوان غزل ہوتے ہیں
ایسا لگتا ہے کہ ہے کچے مکانوں کی زکوٰۃ
جن سے تعمیر یہاں قصر و محل ہوتے ہیں
کوئی عارف ہو تو یہ راز سمجھ سکتا ہے
سامنے آتے ہیں جس آج میں کل ہوتے ہیں
جھیل آنکھوں میں محبت کے کنول ہوتے ہیں
دل میں اتریں تو یہ عنوان غزل ہوتے ہیں
ایسا لگتا ہے کہ ہے کچے مکانوں کی زکوٰۃ
جن سے تعمیر یہاں قصر و محل ہوتے ہیں
کوئی عارف ہو تو یہ راز سمجھ سکتا ہے
سامنے آتے ہیں جس آج میں کل ہوتے ہیں
موج مستی زندگی تھی آہ و غم میں کیوں ڈھلی
جب کرم کی خو تھی اس کی پھر ستم میں کیوں ڈھلی
اس لیے حیرت زدہ ہیں خواب کی تعبیر پر
اک سفال آثار ہستی جام جم میں کیوں ڈھلی
نارسائی تھی مگر پھر بھی فغان دل اٹھی
شام وعدہ کی روش صبح عدم میں کیوں ڈھلی
میں اپنے صبر کے اعجازِ ارتقا میں رہوں
عدو کا شہر ہے پھر بھی صفِ دعا میں رہوں
وہ جس نے زندگی دیکھی رضا کے عالم میں
مِری سزا ہے اسی چشم بے خطا میں رہوں
وہ مہر و ماہ ابھی روشنی لٹاتے ہیں
میں روز و شب اسی قندیل کی عطا میں رہوں
ہاتھ پھیلیں نہ زیادہ تو جھکیں گے بھی کم
اب تِرے شہر میں اے حسن! رکیں گے بھی کم
جُڑ گئے سلسلے اصنام پرستی سے اگر
خُوبرو چہرے خیالوں میں رہیں گے بھی کم
چاندنی شب کے کناروں پہ بُجھی جاتی ہے
جلنے والے یہاں اب اور جلیں گے بھی کم
اندر کے زخم صورتِ قندیل جلتے ہیں
دل کے پھپھولے رخصتی پر ہاتھ ملتے ہیں
سورج کی مِثل کب ہیں شعاع زاد وہ وجود
اجسامِ نور وہ جو دعاؤں میں ڈھلتے ہیں
وحشت مزاجی تنہا شعاری کے روگ میں
جو مبتلا ہوئے، وہ کہاں پھر سنبھلتے ہیں