Showing posts with label مرید عباس خاور. Show all posts
Showing posts with label مرید عباس خاور. Show all posts

Saturday, 24 September 2022

جھیل آنکھوں میں محبت کے کنول ہوتے ہیں

 جھیل آنکھوں میں محبت کے کنول ہوتے ہیں

دل میں اتریں تو یہ عنوان غزل ہوتے ہیں

ایسا لگتا ہے کہ ہے کچے مکانوں کی زکوٰۃ

جن سے تعمیر یہاں قصر و محل ہوتے ہیں

کوئی عارف ہو تو یہ راز سمجھ سکتا ہے

سامنے آتے ہیں جس آج میں کل ہوتے ہیں

Friday, 9 September 2022

موج مستی زندگی تھی آہ و غم میں کیوں ڈھلی

 موج مستی زندگی تھی آہ و غم میں کیوں ڈھلی

جب کرم کی خو تھی اس کی پھر ستم میں کیوں ڈھلی

اس لیے حیرت زدہ ہیں خواب کی تعبیر پر

اک سفال آثار ہستی جام جم میں کیوں ڈھلی

نارسائی تھی مگر پھر بھی فغان دل اٹھی

شام وعدہ کی روش صبح عدم میں کیوں ڈھلی

Thursday, 1 September 2022

میں اپنے صبر کے اعجاز ارتقا میں رہوں

 میں اپنے صبر کے اعجازِ ارتقا میں رہوں

عدو کا شہر ہے پھر بھی صفِ دعا میں رہوں

وہ جس نے زندگی دیکھی رضا کے عالم میں

مِری سزا ہے اسی چشم بے خطا میں رہوں

وہ مہر و ماہ ابھی روشنی لٹاتے ہیں

میں روز و شب اسی قندیل کی عطا میں رہوں

Monday, 29 August 2022

ہاتھ پھیلیں نہ زیادہ تو جھکیں گے بھی کم

 ہاتھ پھیلیں نہ زیادہ تو جھکیں گے بھی کم

اب تِرے شہر میں اے حسن! رکیں گے بھی کم

جُڑ گئے سلسلے اصنام پرستی سے اگر

خُوبرو چہرے خیالوں میں رہیں گے بھی کم

چاندنی شب کے کناروں پہ بُجھی جاتی ہے

جلنے والے یہاں اب اور جلیں گے بھی کم

Monday, 11 July 2022

اندر کے زخم صورت قندیل جلتے ہیں

 اندر کے زخم صورتِ قندیل جلتے ہیں

دل کے پھپھولے رخصتی پر ہاتھ ملتے ہیں

سورج کی مِثل کب ہیں شعاع زاد وہ وجود

اجسامِ نور وہ جو دعاؤں میں ڈھلتے ہیں

وحشت مزاجی تنہا شعاری کے روگ میں

جو مبتلا ہوئے، وہ کہاں پھر سنبھلتے ہیں