Friday, 9 September 2022

موج مستی زندگی تھی آہ و غم میں کیوں ڈھلی

 موج مستی زندگی تھی آہ و غم میں کیوں ڈھلی

جب کرم کی خو تھی اس کی پھر ستم میں کیوں ڈھلی

اس لیے حیرت زدہ ہیں خواب کی تعبیر پر

اک سفال آثار ہستی جام جم میں کیوں ڈھلی

نارسائی تھی مگر پھر بھی فغان دل اٹھی

شام وعدہ کی روش صبح عدم میں کیوں ڈھلی

ابر کی رم جھم میں ٹھنڈک تھی عیاں شعلہ نہاں

ورنہ دھڑکن دل کی ورد بیش و کم میں کیوں ڈھلی

پہلے ساون یوں نہ تھا دُھلتے تھے پیڑ اور گھر تمام

اب کے بارش دیو کے خالی شکم میں کیوں ڈھلی

ساتھ رہنے کی روش بھولا زمانہ کس لیے

دوستی سچی جو تھے جھوٹے بھرم میں کیوں ڈھلی

خاور! اب اس شہرِ کوفہ میں پناہ جاں نہیں

امن کی رو ظلم کے بڑھتے قدم میں کیوں ڈھلی


مرید عباس خاور

No comments:

Post a Comment