Friday, 9 September 2022

حوصلہ لائے کہاں سے کوئی دیوانے کا

 حوصلہ لائے کہاں سے کوئی دیوانے کا

منزلِ غم میں ارادہ ہے ٹھہر جانے کا

سلسلہ چھڑ گیا جب طور کے افسانے کا

اک بہانہ تو ملا تیرے قریب آنے کا

ایک مدت سے یہ پیغام ہے دیوانے کا

وقت ہے دار و رسن سے بھی گزر جانے کا

پُرسشِ غم کو وہ آئے ہیں پشیماں ہو کر

زندگی کا مجھے موقع ہے نہ مر جانے کا

دشمن ہوش و خِرد لوگ کہیں گے تجھ کو

میں تو ممنون ہوں ناصح تِرے سمجھانے کا

آپ کی انجمنِ ناز سے آگے بڑھ کر

اک مقام اور بھی ہے دل کے تڑپ جانے کا

انگلیاں لوگ اٹھاتے ہیں سرِ راہِ حیات

آپ کیوں بن گئے عنواں مِرے افسانے کا

نا خدا موج حوادث سے ڈرا جاتا ہے

اور یہی وقت ہے طوفان سے ٹکرانے کا

کشمکش دونوں جگہ دیکھ رہا ہوں شاہد

اب نہ کعبے کا ارادہ ہے نہ بتخانے کا


شاہد بھوپالی

No comments:

Post a Comment