Showing posts with label گنڈا سنگھ مشرقی. Show all posts
Showing posts with label گنڈا سنگھ مشرقی. Show all posts

Wednesday, 29 July 2026

الٰہی خیر ہو وہ آج کیوں کر تن کے بیٹھے ہیں

 الٰہی خیر ہو وہ آج کیوں کر تن کے بیٹھے ہیں 

کسی کے قتل کرنے کو بھبھوکا بن کے بیٹھے ہیں 

سُبک سر ہے وہی جو دوسروں کے گھر پہ جاتا ہے 

جو اپنے گھر میں بیٹھے ہیں وہ لاکھوں من کے بیٹھے ہیں 

غضب ہے قہر ہے شامت ہے آفت ہے قیامت ہے 

بغل میں وہ عدو کے آج کیوں بن ٹھن کے بیٹھے ہیں 

Sunday, 10 May 2026

ہے عبث حسن کا غرور گھمنڈ

 ہے عبث حُسن کا غرُور گُھمنڈ

کس کا قائم رہا غرور گھمنڈ

خاک و خُوں میں مِلا دیا اس کو

جس کے سر پر چڑھا غرور گھمنڈ

خاکساری ہے شیوۂ انساں

نہیں ہرگز روا غرور گھمنڈ

Friday, 8 May 2026

خطا کو کب اہل کرم دیکھتے ہیں

 خطا کو کب اہلِ کرم دیکھتے ہیں

ہنرمند عیبوں کو کم دیکھتے ہیں

جو اہلِ ہُنر ہیں، ہنر دیکھتے ہیں

نہ دولت نہ جاہ و حشم دیکھتے ہیں

کھنچی آج تیغِ دو دم دیکھتے ہیں

ہے سر کس کا ہوتا قلم دیکھتے ہیں

Thursday, 7 May 2026

ہے بہار زندگانی چند روز

 ہے بہار زندگانی چند روز

رونقِ عہدِ جوانی چند روز

رنج و غم میں زندگی ساری کٹی

پر نہ دیکھی شادمانی چند روز

جب کیے ہم پر کیے جور و ستم

کہ نہ تم نے مہربانی چند روز

Wednesday, 10 July 2024

کی مے سے ہزار بار توبہ

کی مے سے ہزار بار توبہ

رہتی نہیں برقرار توبہ

تم مے سے کرو ہزار بار توبہ

تم سے یہ نبھے قرار توبہ

بندوں کو گنہ تباہ کرتے

ہوتی نہ جو غمگسار توبہ