دل ہاتھ ہیں اور دُعا تیری یاد
ہم جیسوں کا حوصلہ تیری یاد
کچھ یوں بھی خموش ہو گیا ہوں
کرتی ہے مُکالمہ تیری یاد
پُوچھو کبھی میرے آنسوؤں سے
کس درجہ ہے خُوشنما تیری یاد
چلنا ہے کہاں ہمارے بس میں
طے کرتی ہے راستہ تیری یاد
بس ایک ہی مسئلہ میرا دل
بس ایک ہی حوصلہ تیری یاد
کنور امتیاز احمد
No comments:
Post a Comment