عجب معاملہ کل رات بھر رہا مِرے ساتھ
چراغ میرا مخالف تھا اور ہوا مرے ساتھ
نگہ سے دل میں اترنا بھی کتنا مشکل ہے
ذرا سی دیر میں کیا کیا نہیں ہوا مرے ساتھ
عجب نہیں کہ مِرے خال و خد بدل جاتے
پھر ایک رات مِرا آئینہ لڑا مرے ساتھ
عجب معاملہ کل رات بھر رہا مِرے ساتھ
چراغ میرا مخالف تھا اور ہوا مرے ساتھ
نگہ سے دل میں اترنا بھی کتنا مشکل ہے
ذرا سی دیر میں کیا کیا نہیں ہوا مرے ساتھ
عجب نہیں کہ مِرے خال و خد بدل جاتے
پھر ایک رات مِرا آئینہ لڑا مرے ساتھ
سب کے ہوتے ہیں سو اک یار بنانا ہے مجھے
یار بھی یارِ طرحدار بنانا ہے مجھے
دیکھ میں ٹھیک ہوں دنیا میں پڑا رہنے دے
کس لیے تُو نے دگر بار بنانا ہے مجھے
دشت، وحشت کا نشاں ہے نہ دبستانِ جنوں
یہ تو بس راستہ دشوار بنانا ہے مجھے
تیرے افکار جھوٹے ہیں مِرے اشعار فرضی ہیں
ہماری زندگی کے سبھی کِردار فرضی ہیں
مریض عشق ہے صاحب دعا کیجئے دعا کیجئے
بہت ممکن ہے بچ جائے، مگر آثار فرضی ہیں
ہماری آب بیتی تھی جسے سن کر کہا تُو نے
بہت پُر سوز قصے ہیں مگر اے یار فرضی ہیں
پرانا گھر نئے نقشے میں اچھا بن گیا ہے
مگر، اک باپ بچوں کا تماشہ بن گیا ہے
بہت اچھا ہُوا ہم اک قبیلے کے نکل آئے
چلو اب ہاتھ تھامو، اب تو رشتہ بن گیا ہے
خدایا! اب ذرا تیری توجہ اس طرف بھی
ہمارا ہاتھ پھیلے پھیلے کاسہ بن گیا ہے
بڑی محبت سے بات کرتا بڑے سلیقے سے بولتا ہے
وہ شخص جب بھی کسی جگہ پر مرے حوالے سے بولتا ہے
یہ خوش گمانی فقط مجھے ہے یا اس گلی سے گزرنے والی
ہوا کواڑوں سے کھیلتی ہے دیا🪔 دریچے سے بولتا ہے
میں ایک گڑیا کو تم سمجھ کر وہ ساری باتیں کروں گا اس سے
وہ ساری باتیں جو ایک بچہ کسی کھلونے سے بولتا ہے
عجیب تر ہے مرا تماشا، میں آپ اپنا تماش بیں ہوں
خود اپنے اوپر عیاں بھی شاید کہیں کہیں ہوں کہیں نہیں ہوں
تُو کل جہانوں کا ربِ یکتا، میں ایک مٹی کا ادنیٰ پُتلا
تُو بندہ پرور میں فتنہ پرور تُو مالکِ کُل میں نکتہ چیں ہوں
اے عمرِ رفتہ! میں ایک مدت سے اپنے گاؤں نہیں گیا، پر
میں خالی بستر پہ باس بن کر وہیں پڑا ہوں وہیں مکیں ہوں
سورج رستہ بھول گیا تھا
میں نے اس کی انگلی تھامی اس کو اپنے گھر لے آیا
جانے کتنے دن سے یونہی بھوکا پیاسا گھوم رہا تھا
کھانا کھا کر اور سستا کر بولا مجھ سے؛ آؤ دشت نوردی کر لیں
ہم دونوں خاموشی اوڑھے میرے گھر سے باہر نکلے
دروازے پہ چاند کھڑا تھا