Showing posts with label نذر حسین. Show all posts
Showing posts with label نذر حسین. Show all posts

Tuesday, 25 January 2022

عجب معاملہ کل رات بھر رہا مرے ساتھ

 عجب معاملہ کل رات بھر رہا مِرے ساتھ

چراغ میرا مخالف تھا اور ہوا مرے ساتھ

نگہ سے دل میں اترنا بھی کتنا مشکل ہے

ذرا سی دیر میں کیا کیا نہیں ہوا مرے ساتھ

عجب نہیں کہ مِرے خال و خد بدل جاتے

پھر ایک رات مِرا آئینہ لڑا مرے ساتھ

Wednesday, 21 April 2021

سب کے ہوتے ہیں سو اک یار بنانا ہے مجھے

سب کے ہوتے ہیں سو اک یار بنانا ہے مجھے

یار بھی یارِ طرحدار بنانا ہے مجھے

دیکھ میں ٹھیک ہوں دنیا میں پڑا رہنے دے

کس لیے تُو نے دگر بار بنانا ہے مجھے

دشت، وحشت کا نشاں ہے نہ دبستانِ جنوں

یہ تو بس راستہ دشوار بنانا ہے مجھے

Friday, 5 February 2021

تیرے افکار جھوٹے ہیں مرے اشعار فرضی ہیں

 تیرے افکار جھوٹے ہیں مِرے اشعار فرضی ہیں

ہماری زندگی کے سبھی کِردار فرضی ہیں

مریض عشق ہے صاحب دعا کیجئے دعا کیجئے

بہت ممکن ہے بچ جائے، مگر آثار فرضی ہیں

ہماری آب بیتی تھی جسے سن کر کہا تُو نے

بہت پُر  سوز قصے ہیں مگر اے یار فرضی ہیں

Sunday, 29 November 2020

پرانا گھر نئے نقشے میں اچھا بن گیا ہے

 پرانا گھر نئے نقشے میں اچھا بن گیا ہے

مگر، اک باپ بچوں کا تماشہ بن گیا ہے

بہت اچھا ہُوا ہم اک قبیلے کے نکل آئے

چلو اب ہاتھ تھامو، اب تو رشتہ بن گیا ہے

خدایا! اب ذرا تیری توجہ اس طرف بھی

ہمارا ہاتھ پھیلے پھیلے کاسہ بن گیا ہے

Friday, 27 November 2020

بڑی محبت سے بات کرتا بڑے سلیقے سے بولتا ہے

 بڑی محبت سے بات کرتا بڑے سلیقے سے بولتا ہے

وہ شخص جب بھی کسی جگہ پر مرے حوالے سے بولتا ہے

یہ خوش گمانی فقط مجھے ہے یا اس گلی سے گزرنے والی

ہوا کواڑوں سے کھیلتی ہے دیا🪔 دریچے سے بولتا ہے

میں ایک گڑیا کو تم سمجھ کر وہ ساری باتیں کروں گا اس سے

وہ ساری باتیں جو ایک بچہ کسی کھلونے سے بولتا ہے

Thursday, 26 November 2020

عجیب تر ہے مرا تماشا میں آپ اپنا تماش بیں ہوں

 عجیب تر ہے مرا تماشا، میں آپ اپنا تماش بیں ہوں

خود اپنے اوپر عیاں بھی شاید کہیں کہیں ہوں کہیں نہیں ہوں

تُو کل جہانوں کا ربِ یکتا، میں ایک مٹی کا ادنیٰ پُتلا

تُو بندہ پرور میں فتنہ پرور تُو مالکِ کُل میں نکتہ چیں ہوں

اے عمرِ رفتہ! میں ایک مدت سے اپنے گاؤں نہیں گیا، پر

میں خالی بستر پہ باس بن کر وہیں پڑا ہوں وہیں مکیں ہوں

Wednesday, 25 November 2020

سورج رستہ بھول گیا تھا

 سورج رستہ بھول گیا تھا

میں نے اس کی انگلی تھامی اس کو اپنے گھر لے آیا

جانے کتنے دن سے یونہی بھوکا پیاسا گھوم رہا تھا

کھانا کھا کر اور سستا کر بولا مجھ سے؛ آؤ دشت نوردی کر لیں

ہم دونوں خاموشی اوڑھے میرے گھر سے باہر نکلے

دروازے پہ چاند کھڑا تھا

Friday, 4 September 2020

مرے بدن سے تجھے خسارے سے کیا ملا ہے

مِرے بدن سے تجھے خسارے سے کیا ملا ہے
سفید ہاتھوں کو یار گارے سے کیا ملا ہے
دھواں، اداسی، ذرا سا پانی اور ایک ملبہ
ہماری آنکھوں کے گوشوارے سے کیا ملا ہے
اگرچہ تُو نے خیال رکھا ہے میرا، لیکن
کسی بھی اندھے کو یار تارے سے کیا ملا ہے

بڑے سلیقے سے بولتا ہے

بڑی محبت سے بات کرتا بڑے سلیقے سے بولتا ہے
وہ شخص جب بھی کسی جگہ پر مرے حوالے سے بولتا ہے
یہ خوش گمانی فقط مجھے ہے یا اس گلی سے گزرنے والی
ہوا کواڑوں سے کھیلتی ہے، دیا دریچے سے بولتا ہے
اکیلے پن کا عذاب کتنا برا ہے تجھ کو خبر نہیں ہے
خدا صحیفے اتارتا ہے کسی بہانے سے بولتا ہے

Tuesday, 21 January 2020

سورج سے اختلاف بھی کرنا پڑا مجھے

سورج سے اختلاف بھی کرنا پڑا مجھے
گھر میں نیا شگاف بھی کرنا پڑا مجھے
تاریخ پر جمی ہوئی صدیوں کی گرد تھی
اس آئینے کو صاف بھی کرنا پڑا مجھے
میں آپ اپنی ذات کا تنہا نقیب تھا
خود اپنے برخلاف بھی کرنا پڑا مجھے

میں نکل آیا ہوں کمرے کو اکیلا کر کے

اپنے ہی گھر کے دروبام سے جھگڑا کر کے
میں نکل آیا ہوں کمرے کو اکیلا کر کے
جاؤ، تم خواب کنارے پہ لگاؤ خیمے
میں بھی آتا ہوں ذرا شام کو چلتا کر کے
پہلے پہلے یہاں جنگل تھا، گھنیرا جنگل
کاٹنے والوں نے چھوڑا اسے رَستا کر کے

زندگی کیوں نہ تجھے وجد میں لاؤں واپس

زندگی کیوں نہ تجھے وجد میں لاؤں واپس
چاک پر کوزہ رکھوں، خاک بناؤں واپس
دل میں اک غیر مناسب سی تمنا جاگی
تجھ کو ناراض کروں ، روز مناؤں واپس
وہ مرا نام نہ لے صرف پکارے تو سہی
کچھ بہانہ تو ملے دوڑ کے آؤں واپس

میں عام آدمی ہوں مرے عام عام دکھ

میں عام آدمی ہوں مِرے عام عام دکھ
لیکن مجھے عزیز ہیں میرے تمام دکھ
اب ڈالنا پڑے گا مجھے دل میں اک شگاف
کرنا تو ہے فرار تِرا بے لگام دکھ
کل رات میرے خواب کا منظر عجیب تھا
جھولی میں بھر کے لے گیا ماہِ تمام دکھ

کسی کو کچھ نہیں معلوم کس کو کیا دکھ ہے

کسی کو کچھ نہیں معلوم کس کو کیا دکھ ہے
تمام چہروں پہ دکھ، اور ایک سا دکھ ہے
ہوا درخت کو جڑ سے اکھاڑ دیتی ہے
تجھے خبر نہیں تیرا نیا نیا دکھ ہے
بھلا تُو کس کے سہارے حیات کاٹے گی؟
ہمارے پاس تو پھر بھی ہرا بھرا دکھ ہے