سب کے ہوتے ہیں سو اک یار بنانا ہے مجھے
یار بھی یارِ طرحدار بنانا ہے مجھے
دیکھ میں ٹھیک ہوں دنیا میں پڑا رہنے دے
کس لیے تُو نے دگر بار بنانا ہے مجھے
دشت، وحشت کا نشاں ہے نہ دبستانِ جنوں
یہ تو بس راستہ دشوار بنانا ہے مجھے
یہ رہا چاک یہ مٹی یہ ہوا، پانی، آگ
اب بنا جیسا مِرے یار بنانا ہے مجھے
قید کرنا ہے تجھے خواب کے اندر اک دن
اور وہ خواب اُفق پار بنانا ہے مجھے
نذر حسین ناز
No comments:
Post a Comment