Wednesday, 21 April 2021

سناٹا باتیں کرتا ہے

 سناٹا باتیں کرتا ہے

خاموشی ہم سے ڈرتی ہے

وقت کہیں تھم جاتا ہے

لفظ کہیں گُم سُم سے ہیں

رات گُزرتی جاتی ہے

سائے گھٹتے جاتے ہیں

اور

ہم تم مرتے جاتے ہیں


زعیم مشتاق

No comments:

Post a Comment