Showing posts with label عبدالحئ تاباں. Show all posts
Showing posts with label عبدالحئ تاباں. Show all posts

Monday, 11 January 2021

شب کو پھرے وہ رشک ماہ خانہ بہ خانہ کو بہ کو

شب کو پِھرے وہ رشکِ ماہ خانہ بہ خانہ کو بہ کو

دن کو پِھروں میں داد خواہ، خانہ بہ خانہ کو بہ کو

قبلہ! نہ سرکشی کرو، حُسن پہ اپنے اس قدر

تم سے بہت ہیں کج کلاہ خانہ بہ خانہ کو بہ کو

خانہ خراب عشق نے کھو کے مِری حیا و شرم

مجھ کو کِیا ذلیل آہ، خانہ بہ خانہ کو بہ کو

Wednesday, 19 August 2020

ایک ہی جام کو پلا ساقی

ایک ہی جام کو پلا ساقی
عدل اور ہوش لے گیا ساقی
ابر ہے مجھ کو مے پلا ساقی
اس ہوا میں نہ جی کڑھا ساقی
لبِ دریا پہ چاندنی دیکھوں
ہو اگر مجھ سے آشنا ساقی

ساقی ہو اور چمن ہو مینا ہو اور ہم ہوں

ساقی ہو اور چمن ہو، مینا ہو اور ہم ہوں
باراں ہو اور ہوا ہو، سبزہ ہو اور ہم ہوں
زاہد ہو اور تقویٰ، عابد ہو اور مصلیٰ
مالا ہو اور برہمن، صہبا ہو اور ہم ہوں
مجنوں ہیں ہم ہمیں تو اس شہر سے ہے وحشت
شہری ہوں اور بستی، صحرا ہو اور ہم ہوں

Tuesday, 18 August 2020

تو مل اس سے ہو جس سے دل ترا خوش

تو مل اس سے ہو جس سے دل تِرا خوش 
بلا سے تیری میں نا خوش ہوں یا خوش 
خوشی تیری جسے ہر دم ہو درکار 
کوئی اس سے نہیں ہوتا ہے نا خوش 
کوئی اب کے زمانہ میں نہ ہو گا 
الٰہی آشنا سے آشنا خوش

داغ دل اپنا جب دکھاتا ہوں

داغِ دل اپنا جب دکھاتا ہوں
رشک سے شمع کو جلاتا ہوں
وہ مِرا شوخ ہے نپٹ چنچل
بھاگ جاتا ہے جب بلاتا ہوں
اس پری رو کو دیکھتا ہوں جب
ہو کے دیوانہ سُدھ بھلاتا ہوں

Sunday, 16 August 2020

یار روٹھا ہے مرا اس کو مناؤں کس طرح

یار روٹھا ہے مِرا، اس کو مناؤں کس طرح؟
منتیں کر پاؤں پڑ اس کے لے آؤں کس طرح
جب تلک تم کو نہ دیکھوں تب تلک بے چین ہوں
میں تمہارے پاس ہر ساعت نہ آؤں کس طرح
دل دھڑکتا ہے مبادا اٹھ کے دیوے گالیاں
یار سوتا ہے مِرا اس کو جگاؤں کس طرح

کس سے پوچھوں ہائے میں اس دل کے سمجھانے کی طرح

کس سے پوچھوں ہائے میں اس دل کے سمجھانے کی طرح
ساتھ طفلاں کے لگا پھرتا ہے، دیوانے کی طرح
یار کے پاؤں👣 پہ سر رکھ جی کو اپنے دیجئے
اس سے بہتر اور نہیں ہوتی ہے مر جانے کی طرح
کب پلاوے گا تو اے ساقی! مجھے جام شراب
جاں بلب ہوں آرزو میں مے کی پیمانے کی طرح

عیش سب خوش آتے ہیں جب تلک جوانی ہے

عیش سب خوش آتے ہیں جب تلک جوانی ہے
مردہ دل وہ ہوتا ہے جو کہ شیخ فانی ہے
جب تلک رہے جیتا چاہئے ہنسے بولے
آدمی کو چپ رہنا، موت کی نشانی ہے
جو کہ تیرا عاشق ہے، اس کا اے گلِ رعنا
رنگ زعفرانی ہے،۔ اشک ارغوانی ہے

مرا خورشید رو سب ماہ رویاں بیچ یکا ہے

مِرا خورشید رو سب ماہ رویاں بیچ یکا 🂱 ہے
کہ ہر جلوے میں اسکے کیا کہوں اور ہی جھمکا ہے
نہیں ہونے کا چنگا گر سلیمانی لگے مرہم
ہمارے دل پہ کاری زخم اس ناوک پلک کا ہے
کئی باری بنا ہو جس کی پھر کہتے ہیں ٹوٹے گا
یہ حُرمت جس کی  ہو اے شیخ کیا تیرا وہ ٭مَکا ہے

یار سے اب کے گر ملوں تاباں

یار سے اب کے گر ملوں تاباں
تو پھر اس سے جدا نہ ہوں تاباں
یا بھرے اب کے اس سے دل میرا
عشق کا نام پھر نہ لوں تاباں
مجھ سے بیزار ہے مِرا ظالم
یہ ستم کس طرح سہوں تاباں

Tuesday, 19 April 2016

نہیں تم مانتے میرا کہا جی

نہیں تم مانتے میرا کہا جی
کبھی تو ہم بھی سمجھیں گے بھلا جی
تمہارے خط کے آنے کی خبر سن
میاں صاحب! نِپٹ میرا کُڑھا جی
زکٰوۃِ حسن دے، میں بے نوا ہوں
یہی ہے تم سے اب میری صدا جی

غم میں روتا ہوں ترے صبح کہیں شام کہیں

غم میں روتا ہوں تِرے صبح کہیں شام کہیں
چاہنے والوں کو ہوتا بھی ہے آرام کہیں
وصل ہو وصلِ الٰہی کہ مجھے تاب نہیں
دور ہوں دور مِرے ہجر کے ایام کہیں
لگ رہی ہیں تِرے عاشق کی جو آنکھیں چھت سے
تجھ کو دیکھا تھا مگر ان کے لب بام کہیں