شب کو پِھرے وہ رشکِ ماہ خانہ بہ خانہ کو بہ کو
دن کو پِھروں میں داد خواہ، خانہ بہ خانہ کو بہ کو
قبلہ! نہ سرکشی کرو، حُسن پہ اپنے اس قدر
تم سے بہت ہیں کج کلاہ خانہ بہ خانہ کو بہ کو
خانہ خراب عشق نے کھو کے مِری حیا و شرم
مجھ کو کِیا ذلیل آہ، خانہ بہ خانہ کو بہ کو